ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا خدا کی توفیق سے ہوتا ہے، یہ توفیق صرف اس انسان کو ملتی ہے جو اسمِ اعظم کی دعا سے پہلے اسمِ اعظم کی کیفیات میں جی رہا ہو۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں، وہ دراصل "الإناء يَتَرَشَّحُ بِمَا فِيهِ" کا معاملہ ہے۔ یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا، اور اس کا وہ حال ہوا جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: وَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ سورہ نمبر 6، آیت 130۔
یعنی وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی، اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذکرِ کثیر—الأحزاب 41—میں جینے لگتا ہے۔ یعنی ہر وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلیات کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لیے ایک تیار ذہن، یعنی پریپیئرڈ مائنڈ، ہوتا ہے۔
جب بھی کوئی خاص موقع اس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر ابل پڑتے ہیں۔ اس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے، ایک تیار ذہن سے نکلنے والی اسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.