Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

ایک صالح خاتون کا واقعہ

Urdu · 2 min

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائی تھی۔ جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اس وقت آسیہ کی زبان سے ایک دعا نکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ سورہ نمبر 66، آیت 11۔ یعنی: اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے، اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔

یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جس کے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ بعض روایت میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اس وقت موت سے پہلے اس کو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اس کو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان دکھا دیا۔ القرطبی، جلد 18، صفحہ 203۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔

اس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی۔ وہ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لمحات میں جی رہی تھی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.