Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asmaay-e-Husna
Asmaay-e-Husna

دو مثالیں

Urdu · 7 min

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں۔ اس نے ان دعاؤں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں ان کو دہرانے لگا۔

مثلاً یہ دعا: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار یعنی: اے ہمارے رب! تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔ سورہ نمبر 2، آیت 201۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔

اب سپر دعا کی ایک مثال لیجیے: اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے، مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنہوں نے مصر میں دعوت توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم حضرت موسیٰ کی دعوت توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔

قدیم زمانہ الناس علی دین ملوکیم کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا، اور اس کو وہ سزا دی جاتی تھی جو ریاست سے بغاوت کے لیے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر یعنی ریلیجس پرسیکیوشن کا نظام رائج تھا۔

یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لیے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ یعنی: اے میرے رب! اپنے پاس میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے۔ سورہ نمبر 66، آیت 11۔

آسیہ کی اس دعا کو اس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا: اے میرے رب! میں نے تیرے لیے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لیے اپنے پڑوس میں ایک محل بنا دے۔ I sacrifice my seat in the palace of worldly kings, O Lord, give me a better seat in your neighborhood in the world hereafter آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے لیے بعض علماء نے درست طور پر کہا کہ ما أحسن هذا الكلام یعنی: کتنی اچھی ہے یہ دعا۔ صفۃ التفاسیر، جلد 3، صفحہ 412۔

یہ دعا بلاشبہ ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا: محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سفاکانہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اس وقت اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہیے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لیے منتخب کر لینا چاہیے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے۔ اس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلاشبہ ایک سپر دعا تھی، اور وہ فوراً ہی قبول ہو گئی۔

روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اس کے محل کا مشاہدہ کرایا۔ چنانچہ آسیہ نے اس حال میں جان دی کہ اس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا، جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے، بلکہ وہ ایک نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی مرحلے سے گزرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ خدایا! میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تاکہ تو اگلے مرحلہ حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔

یہی وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یوم الحساب یعنی ڈے آف ججمنٹ کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انہوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑ دیا تھا۔ اب ان کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کر دو، تاکہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی اکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.