← Asmaay-e-HusnaAsmaay-e-Husna
ایک واقعہ
Urdu · 7 min
رامپور یو پی کا واقعہ ہے: ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ "میرے لیے ایک بائیسکل خرید دیجیے"۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائیسکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا، اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔
بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: "میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خرید سکتا، اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا، ورنہ میں تم کو ماروں گا۔ " یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد وہ روتے ہوئے بولا: "آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں؟
" اس جملے نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا: "اچھا بیٹے، اطمینان رکھو، میں تمہارے لیے بائیسکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ " یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔
اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے ایک نئی بائیسکل خرید دی۔ لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطے پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا کہ وہ خود اس کے لیے تھی۔
بیٹے کے الفاظ نے باپ کو اس سنگین سوال سے دوچار کر دیا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو بائیسکل نہ دے تو اس کی پدریت، یعنی فادرہڈ، ہی مجتبیٰ ہو جائے گی۔ اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دعا کی وہ کون سی قسم ہے جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی رسمی نصاب ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔
جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین اور آسمان بھی نہ کر سکے۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ مانگنے والا اور دینے والا دونوں ایک ترازو پر آ جاتے ہیں، یہ وہ لمحہ ہے جبکہ دعا محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔
قادرِ مطلق عاجزِ مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو اس میں دونوں قسم کی دعا کی مثال نظر آئے گی۔ مذکورہ بچے نے جب پہلی بار اپنے باپ سے یہ کہا کہ "مجھے ایک بائیسکل خرید دیجیے"، تو اس نے گویا کہ صرف دعا کی۔ لیکن دوسری بار جب اس نے رو کر یہ کہا کہ "آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے بائیسکل کے لیے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں؟
" جب بچے کی زبان سے یہ دوسرے الفاظ نکلے، تو وہ گویا کہ ایک سپر دعا تھی۔ پہلے قسم کے الفاظ سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا، لیکن دوسرے قسم کے الفاظ نے باپ کو پگھلا دیا۔ اب وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ فوراً بائیسکل خریدنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس مثال سے عام قسم کی دعا اور اسمِ اعظم کی دعا کا فرق سمجھا جا سکتا ہے۔
عام قسم کی دعا محض دعائیہ الفاظ کو زبان سے دہرا دینے کا نام ہے، لیکن اسمِ اعظم کے ساتھ کی گئی دعا گویا کہ سپر دعا ہے۔ ایسی دعا خود خدا کو ہلا دیتی ہے۔ جیسا کہ مظلوم کی دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ دعوة المظلوم تُحمَلُ على الغمام وتُفْتَحُ لها أبواب السماء، يقول الرب عز وجل: «وَإِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ» مسند احمد جلد 2 صفحہ 305۔ دعا اور سپر دعا کا فرق الفاظ میں فرق کا نام نہیں، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپرٹ میں فرق کا نام ہے۔
یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالتِ داخلی پر منحصر ہے کہ اس کی زبان سے نکلنے والی دعا سپر دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔