← Asmaay-e-HusnaAsmaay-e-Husna
ایک تاریخی مثال
Urdu · 8 min
سلطان عبدالرحمن الناصر، وفات 961 عیسوی، اسپین یعنی اندلس کا ایک مسلم حکمران تھا۔ اس نے 25 سال کی محنت سے قرطبہ کے پاس ایک شاندار محل بنایا۔ یہ محل 4 میل لمبی اور 3 میل چوڑی زمین میں واقع تھا۔ اس محل کا نام اس نے "الزہرا" رکھا، مگر غیر معمولی طور پر بڑا ہونے کی وجہ سے اس کو قصر الزہرا کے بجائے مدینۃ الزہرا کہا جانے لگا۔
سلطان عبدالرحمن الناصر کو عمارتوں کا بڑا شوق تھا۔ اس نے الزہرا کے نام سے یہ شاہی بستی بسائی اور اس میں شاندار محل تعمیر کیے۔ ان تعمیرات کے آخری دنوں میں سلطان اتنا مشغول رہا کہ مسلسل 3 جمعہ میں وہ مسجد نہ پہنچ سکا۔ چوتھے جمعہ کو جب سلطان جامعہ مسجد پہنچا تو اس کی موجودگی میں قاضی منذر، وفات 966 عیسوی، نے جو خطبہ دیا اس میں نام لیے بغیر سلطان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔
قاضی منذر نے ایسی آیتیں پڑھیں جن میں دنیا میں عمارتیں کھڑی کرنے اور آخرت سے غافل ہو جانے پر وعیدیں تھیں۔ مثلاً: "کیا تم ہر بلندی پر عبث یادگاریں تعمیر کرتے ہو اور شاندار محل بناتے ہو، گویا کہ تم کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے؟ اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جب بارہا حملہ کرتے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔
" (سورہ نمبر 26، آیات 128 تا 131) تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو، یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی، بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ عمارت اس کو لے کر جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی، یہاں تک کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔
" (سورہ نمبر 9، آیات 109 تا 110) اسی طرح قاضی منذر نے اس مضمون کی بہت سی حدیثیں سنائیں اور ان کی تشریح کی۔ اپنے خطبے میں اگرچہ انہوں نے سلطان کا نام نہیں لیا، مگر مسجد کا ہر نمازی سمجھ رہا تھا کہ ان سخت تنقیدوں کا مخاطب کون ہے اور وہ کس کے اوپر پڑ رہی ہیں۔ تنقید یوں بھی آدمی کے اوپر بہت سخت ہوتی ہے، اور جب مجمع عام میں کسی پر تنقید کی جائے تو وہ اور بھی زیادہ ناگواری کا باعث ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ تنقید ایک ماتحت کی زبان سے اپنے حاکم کے اوپر تھی۔
اور جب کوئی حاکم اپنے ماتحت کو تنقید کرتے ہوئے سنتا ہے تو اس پر کبر کا سخت دورہ پڑتا ہے۔ بڑے بڑے شریف اور دیندار لوگ بھی اس وقت قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ مگر سلطان نے حد درجہ ضبط سے کام لیا۔ اگرچہ سلطان پر اس تنقید کا بہت زیادہ اثر تھا، مگر وہ مسجد میں کچھ نہ بولا اور نماز کے بعد خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔
گھر پہنچ کر سلطان نے اپنے لڑکے الحکم سے کہا کہ آج قاضی منذر نے مجھ کو بہت سخت تکلیف دی، اب میں نے طے کر لیا ہے کہ میں ان کے پیچھے کبھی جمعہ کی نماز نہیں پڑھوں گا۔ الحکم نے کہا: "قاضی منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ ان کو معزول کر دیجئے اور ان کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجئے جو ایسی گستاخی نہ کرے۔ " یہ سن کر سلطان غصے میں آ گیا۔
اس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: "تمہارا برا ہو! ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستے سے بھٹکا ہوا ہے، کیا اس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا؟ یہ بات کبھی نہیں ہو سکتی۔ " هذا ما لا يكون مجھے ان کی باتوں سے چوٹ لگی، اس لیے میں نے ان کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھا لی۔
میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفارے کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے۔ بل يصلي بالناس حياةً و حياةً إن شاء الله تعالى چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبدالرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اس کے لڑکے نے بھی ان کے مقام کو اسی طرح باقی رکھا۔
اوپر جس واقعے کا ذکر ہوا، اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں جو اگر کسی کے اندر ہوں تو اس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جس کو اسم اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسم اعظم کے ساتھ دعا میں اگر 50 فیصد اسم اعظم کا حصہ ہے تو 50 فیصد خود دعا کرنے والے کی ربانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبدالرحمن دونوں کے اندر کم و بیش موجود تھی۔
اس لیے ان کے ساتھ ایک عظیم دعا کی تاریخ شامل ہو گئی۔ حسبِ ذیل واقعہ اس معاملے میں ایک چشم کشا مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔