خدا نے انسان کے لیے اپنے جن اسمائے حسنیٰ کا تعارف کرایا ہے، وہ انسان کے اوپر ایک دروازۂ رحمت کھولنے کے ہم معنی ہیں۔ اسمائے حسنیٰ یہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان مواقعِ اتصال، یعنی meeting points، کیا کیا ہیں۔ ان مواقعِ اتصال کے ذریعے بندہ خدا سے قربت حاصل کر سکتا ہے۔ پھر اگر بندے کی سپرٹ بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذکر اور اپنی دعا میں اسمِ اعظم کا استعمال کر سکے، یعنی اس اسم یا نام کا استعمال جس کے استعمال کے بعد ربانی اتصال اچانک اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے کے بعد اچانک بجلی کے بلب کا فوراً روشن ہو جانا۔
یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک قانون ہے جس کو خود انسانوں کے درمیان محسوس تعلقات کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.