اسمِ اعظم، اسمائے حسنیٰ سے الگ کوئی نام نہیں۔ وہ انہی ناموں میں شامل ہے۔ اسمائے حسنیٰ میں سے کوئی اسم، اس وقت اسمِ اعظم بن جاتا ہے جبکہ دعا کرنے والا اس کو ایک غیر معمولی جذبے کے تحت استعمال کرے۔
پکارنے والے کا جذبۂ اعظم، اسمائے حسنیٰ میں سے کسی اسم کو اسمِ اعظم بنا دیتا ہے۔ اسمِ اعظم کوئی پراسرار منتر نہیں؛ وہ مکمل طور پر ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پکارنے والا یہ جانے کہ اس نے اسمِ اعظم کے ذریعے خدا کو پکارا ہے۔ یہ دراصل خدا کی مقبولیت ہے، یہ دراصل خدا کی قبولیت ہے، جو کسی اسم کو اسمِ اعظم کا درجہ دے دیتی ہے۔
اسم بظاہر ایک معلوم لفظ کا نام ہے، لیکن کسی چیز کا اسمِ اعظم ہونا تمام تر داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ چونکہ داخلی اسپرٹ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے یہ صرف اللہ ہے جو جانتا ہے کہ کب اس کے کسی بندے نے اس کو اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا۔ یہ حقیقت صرف آخرت میں کھلے گی کہ وہ کون خوش قسمت انسان تھا جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس معاملے میں اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو وہ صرف برِ بینائے قیاس ہوتا ہے۔
کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو حقیقی علم کی بنیاد پر اس بارے میں کوئی رائے دے سکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.