تغلق خاندان کے آخِر زمانے میں، جب اُن کی سلطنت کا زوال شروع ہوا، تو فیروز تغلق کے جاگیردار دلاور خان نے مالوا میں— مالوہ میں— 1401 عیسوی میں خود مختار سلطنت قائم کر لی۔ اُس کا دارالسلطنت ابتدا دھار اور اس کے بعد مانڈو تھا، دلاور کے بعد ہوشنگ، اور اس کے بعد اُس کا لڑکا غزنی خان تخت پر بیٹھا۔ اُس زمانے میں محمود خلجی اُس کا وزیر تھا؛ وزیر نے موقع پا کر غزنی خان کو مروہ ڈالا اور خود تخت پر بیٹھ گیا۔ سلطان محمود خلجی ایک بہادر سپاہی تھا، اور ذاتی زندگی میں نہایت شریف مزاج تھا۔
اُس نے ساری عمر کیمپ میں گزاری۔ محمود نے 1469 میں وفات پائی، سلطان محمد تغلق کے عبد، 1347 عیسوی میں دکن میں بغاوت ہوئی، اور حسن گنگو نے ایک خود مختار ریاست کی بنیاد رکھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ ایران کے قدیم بادشاہ بہن کی اولاد ہے۔ اُس نے گلبرگہ کو اپنا دارالسلطنت قرار دیا۔ اس خاندان کے احمد بہمنی نے شہر بیدر بسایا جو گلبرگہ کے بجائے بہمنی سلطنت کا پائے تخت ہو گیا۔
اسی خاندان کا ایک حکمران نظام شاہ بہمنی تھا؛ وہ 1462 عیسوی میں تخت پر بیٹھا، مگر تخت نشینی کے 2 سال بعد نظام شاہ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ مالوا، مالوہ، مالوہ یا مالوا کا حاکم محمود خلجی حلال غذا کا بہت زیادہ اہتمام کرتا تھا۔ 1461 میں اُس نے بیدر پر حملہ کیا، جو نظام شاہ بہمنی کا دارالسلطنت تھا۔ دورانِ محاصرہ اُس کے سامنے ایک مسئلہ یہ آیا کہ اپنے لیے حلال غذا کہاں سے حاصل کرے۔
حلال سبزیوں کا ذخیرہ جو اُس کے پاس تھا، وہ محاصرے کے طول پکڑ جانے کی وجہ سے ختم ہو گیا۔ اس مسئلے کا اسے بہت— اس مسئلے کا اسے پہلے سے اندازہ تھا، چنانچہ اپنے معمول کے مطابق وہ اپنے ملک سے مٹی اور تختے لے کر گیا تھا۔ اُس نے لکڑی کے تختوں پر مٹی ڈال کر سبزی اگائی، مگر وہ اُس کی ضرورتوں کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ بالآخر اُس نے اس علاقے کے ایک بزرگ مولانا شمس الدین کرمانی کو بلایا اور اُن سے کہا کہ مجھے کسی ایسے شخص کا پتہ بتائیے جس کے پاس حلال روپیے سے خریدی ہوئی زمین ہو، اور وہ میرے ہاتھ اُس کو فروخت کر دے۔
میں اُس کو لے کر اُس میں اپنے لیے سبزیاں اگاؤں گا۔ مولانا شمس الدین کرمانی نے جواب دیا: "تم نے ایک مسلمان ملک پر حملہ کیا ہے، یہاں آ کر تم لوگوں کا خون بہا رہے ہو، اور آباد گھروں کو اجاڑ رہے ہو۔ حرام سالن سے بچنے کی تمہیں اتنی فکر ہے، اور مسلمانوں کی خون ریزی سے بچنے کی کوئی فکر نہیں۔ " یہ سن کر سلطان رو پڑا۔
کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 479۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.