دین داری یہ ہے کہ دین پوری زندگی پر چھا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں شریعت کا بہت اہتمام کرتا ہے، مگر بڑے بڑے امور میں اس کو خدا کی شریعت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ ایسے معاملات میں بال کی کھال نکالنے کی حد تک مذہبی بنتا ہے، جس میں اس کے ذاتی مفادات مجروح نہیں ہوتے۔ جو اس کے دنیاوی عزائم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے۔
جن میں اسے یہ قیمت نہیں دینی پڑتی کہ دین کی خاطر اپنے ایک مبغوض شخص سے محبت کرے، اور اپنے ایک محبوب شخص سے محبت کرے، اور اپنے ایک محبوب شخص سے قلبی تعلق ختم کر دے۔ خلاصہ یہ کہ جو دین اس کی اپنی زندگی میں خلل نہ ڈالے، وہ اس کی پیروی میں بہت آگے ہوتا ہے۔ مگر وہ دین جو اس کی اپنی زندگی سے ٹکرائے، جو اس سے "یہ کرو اور وہ نہ کرو" کا مطالبہ کرے، اس سے اسے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 478۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.