Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Jab Khuda ki Zameen Taassubaat se khali thi

Urdu · 4 min

جب خدا کی زمین تعصبات سے خالی تھی، 70 سال پہلے کی دنیا آج کی دنیا سے کتنی مختلف تھی؟ اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہاں ہم مولانا شبلی نعمانی کی تحریر نقل کرتے ہیں، جو انہوں نے 1909 میں لکھی تھی۔ یہ واقعہ حیرت سے سنا جائے گا کہ کولہا پور کی ریاست نے، جو ایک ہندو ریاست ہے، ایک مسلمان طالب علم کو اپنے صرف سے ندوۃ العلماء کے دارالعلوم میں اس غرض سے بھیجا کہ وہ یہاں ایک مذہبی تعلیم پائے۔ ریاستِ مذکور کے افسرِ تعلیم کنج لال صاحب دیوالی ایم اے کا جو خط اس کے متعلق ہمارے پاس آیا ہے، اس کا اقتباس حسبِ ذیل ہے: "کچھ دن ہوئے، مفاخرت نامہ والا شرف صدور لایا تھا؛ موقع پا کر وہ حضور مہاراجہ صاحب دام ملکوہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔

حضور ممدوح اس کا مضمون سن کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا کہ طالب علم کو وہاں روانہ کیا جائے۔ امید کہ یہ نوجوان جناب کے دارالعلوم سے اتنا ذخیرہ علوم لے کر واپس آئے گا کہ کل گرد و نواح کے مسلمان اس پر فخر کریں گے۔ " موجودہ دنیا میں یہ کس قدر عجیب آواز ہے، لیکن درحقیقت یہ اس عجیب و غریب بے تعصبی کی بقیہ یادگاریں ہیں جو تیموریوں نے ہندوستان میں غیر مذہب والوں کے ساتھ برتی تھیں۔ تیموریوں نے کیا کیا، اس سوال کا جواب پچھلی تاریخوں نے بار بار دیا، لیکن مخالفین کو تسلی نہیں ہوتی۔

اس لیے ان کو زندہ مثالوں کی طرف نظر اٹھانی چاہیے۔ ان کو حیدرآباد جانا چاہیے، جہاں سالانہ 300,000 روپیے صرف شیوالوں، مندروں، اور بت خانوں کی تعمیر اور مرمت میں صرف کیا جاتا ہے۔ میں نے خود اپنے زمانۂ قیام حیدرآباد میں دیکھا کہ ایک گاؤں کے ہندو نے درخواست کی کہ ہمارے آس پاس کوئی شیوالہ نہیں ہے جس میں ہم لوگ اپنی مذہبی عبادت بجا لائیں۔ اس درخواست پر ریاست سے 6,000 روپیہ عطا ہوا۔

گیا میں بدھ مت کا سب سے بڑا مندر ہے، اس کے آس پاس آج سلاطینِ تیموریہ کے 13 فرامین ہیں، میں نے خود جا کر دیکھا ہے، جس میں جادریوں اور پجاریوں کے مصارف کے لیے زمین اور جاگیریں عطا کی گئی ہیں۔ ریاست پٹیالہ ایک سکھ ریاست ہے، میں نے خود وہاں جا کر معلوم کیا ہے کہ کوئی مسجد تعمیر کی جاتی ہے تو ریاست کی طرف سے ایک معین رقم اس کام کے لیے ملتی ہے، اور یہ قاعدہ مدت سے چلا آ رہا ہے۔ الندوہ، ماہ جولائی 1909 عیسوی۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 477۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.