جب بادشاہ بھی تنقید سن کر برہم نہیں ہوتے تھے۔ سلطان بایزید ایک ترک بادشاہ گزرا ہے؛ اس کے زمانے میں مولانا شمش الدین رومی حاکمِ عدالت تھے۔ ان کے یہاں ایک مقدمہ آیا جس میں خود سلطان بایزید گواہ تھا۔ جب مقدمہ پیش ہوا اور بادشاہ گواہی دینے کے لیے آیا تو مولانا شمش الدین— مولانا شمس الدین نے کہا: "سلطان بایزید کی شہادت معتبر نہیں ہے، اس لیے ان کی شہادت قبول نہیں کی جا سکتی۔
" بادشاہ کو غصہ آ گیا۔ اس نے پوچھا: "اس کا سبب کیا ہے؟ " مولانا شمس الدین رومی نے کہا کہ آپ نماز میں جماعت کے پابند نہیں ہیں، اور جو شخص باجماعت نماز کی ادائیگی میں کوتاہ ہو، اس کی گواہی معتبر نہیں۔ سلطان بایزید نے اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر لیا۔
بادشاہِ وقت کی حیثیت سے سارا اقتدار اس کے پاس تھا، اور وہ قاضی کے خلاف کارروائی کر سکتا تھا۔ مگر اس نے قاضی صاحب کی صاف گوئی پر خوشی کا اظہار کیا، اور اس کے بعد پابندی کے ساتھ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونے لگا۔ سلطان نے ایک موقع پر کہا: "مجھے فخر ہے کہ میری سلطنت میں ایسے ایماندار اور انصاف پسند قاضی موجود ہیں جو بادشاہ کے آگے بھی حق کا اظہار کرنے سے نہیں رکتے۔ " کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 476۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.