ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے، اس لیے مغربی تہذیب— ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے، اس لیے مغربی تہذیب سے تصادم کا مسئلہ سب سے پہلے یہیں پیش آیا۔ مگر اس کے جواب میں کیا ہوا؟ ایک طرف قدیم علما کا گروہ تھا جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کا اس درجہ مخالف تھا کہ سلطان سلیم ثالث، 1789 تا 1807، اور اس کے جانشین سلطان محمود، 1808 تا 1839 کی نئی فوجی تنظیمات اور ان جدید اصلاحات تک کی مخالفت کی، جو انہوں نے ترکی کو عسکری اور علمی لحاظ سے یورپ کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے دوش بدوش لے چلنے کے لیے نافذ کی تھیں۔ دوسری طرف ترکی کی وہ نئی نسل تھی جو پیرس اور برلن اور لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر کے آئی تھی، وہ ترکی کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتی تھی۔
ان کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے مغربی تخلیق کے جواز کے لیے ایک پورا فلسفہ بنا ڈالا۔ ضیاء گوکلپ نے کہا: مغربی تہذیب، جس کو ہم بحیر روم کے منتخی کی تہذیب کہتے ہیں، کے بانی سماری، سیتھی، فنیقی، روعات ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ تاریخ میں قدیم زمانے سے پہلے ایک تورانی دور کا وجود ملتا ہے، اس لیے وسط ایشیا کے قدیم باشندے ہمارے اجداد تھے۔ اس کے بعد مسلمان ترکوں نے اس تہذیب کو ترقی دی اور اس کو یورپ تک پہنچایا۔
پھر مغربی و مشرقی سلطنت روما کے خاتمے کے بعد ترکوں نے یورپ کی تاریخ میں انقلاب پیدا کیا، اور اسی بنا پر ہم مغربی تہذیب کا جز ہیں اور ہمارا اس میں حصہ ہے۔ ان کا منتہائے فکر یہ تھا کہ وہ اپنے دماغ سے کام لے کر اپنے کو مغرب کی روشن اور بلند پایا تہذیب میں نصب کر لیں۔ عرفان اورگا، اتاترک، 297؛ کمال اتاترک، 1881 تا 1938۔ جب 1924 میں ترک جمہوریہ کے پہلے صدر مقرر ہوئے تو ان کے نزدیک جو سب سے اہم کام تھا وہ یہ کہ ترکوں کو مغرب کا لباس پہنا دیں۔
انہوں نے پردے کو خلاف قانون قرار دیا، عربی حروف کی جگہ لاتینی حروف جاری کیے، عربی میں اذان ممنوع ہو گئی، ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دے دیا گیا۔ حتیٰ کہ جب ایک خون ریز انقلاب کے بعد ہیٹ کی جنگ جیت لی گئی تو مصطفی کمال نے مکے کی معتمر اسلامی 1927 میں شرکت کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اس حال میں روانہ کیا کہ وہ اس کے واحد مندوب تھے جو اپنے سر پر مغربی ہیٹ رکھے ہوئے تھے۔ یہ گویا ترکی کی فتح عظیم کا اعلان تھا۔ یہی مثال ہر مسلم ملک میں پیش آئی ہے۔
ان میں ڈگری کا فرق تو ہو سکتا ہے مگر نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ یہی ہوا کہ قدیم مذہبی طبقے نے مغرب سے نفرت اور اجتناب میں زندگی کا راز بتایا۔ اور جدید تعلیم یافتہ نے مغرب کی تخلیق سے یہ امید کی کہ وہ دوبارہ بام عروج پر پہنچ جائیں گے۔ مگر یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ لوگ شدت سے اس پہلو کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہوں کہ قوت و طاقت کے اس راز کو معلوم کرو جس سے مسلح ہو کر مغرب تمہارے اوپر اور دنیا کے اوپر چھا رہا ہے۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 474۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.