ابو عبداللہ لسان الدین، معروف بِـ ابن الخطیب، 713-776 ہجری، غرناطہ میں پیدا ہوا۔ عربی زبان و ادب، علوم دینیہ، فلسفہ و طب، ریاضی و تاریخ میں وقت کی اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی، مگر حاکم غرناطہ ابو الحجاج یوسف 733-755 ہجری کے دربار میں اس کو جس چیز نے پہنچایا وہ اس کی ادب و شاعری تھی۔ سلطان نے اس کو اپنا سیکریٹری بنا لیا، اس کے بعد اس کو وزیر کا منصب عطا کیا۔ ابو حجاج کے بعد اس کا بیٹا محمد خامس تخت نشین ہوا تو اس نے بھی اس کو وزارت پر بحال رکھا، مگر اس کی ترقی نے اس کے حاسدوں کی تعداد بہت بڑھا دی۔
انہوں نے بادشاہ کو اس کے خلاف بدگمان کر دیا، وہ غرناطہ سے بھاگ کر افریقہ پہنچا۔ یہاں بھی ابتداً اس کی عزت و تکریم ہوئی، اس کے بعد کچھ لوگوں نے فقہاء کو اس کے خلاف بھڑکایا، انہوں نے اس کے الحاد کا فتویٰ دے دیا۔ چنانچہ کچھ جوشیلے لوگ دیوار پھاندھ کر اس کے گھر میں گھس گئے اور گلا گھونٹ کر اس کو مار ڈالا۔ کہا جاتا ہے کہ جس طرح افریقہ میں علم و ادب کی امامت ابن خلدون پر ختم ہو گئی، اسی طرح اندلس میں علم و ادب کی امامت ابن الخطیب پر ختم ہوئی۔
ابن الخطیب کا تاریخ میں بہت بلند مقام تھا، اس نے تقریباً 60 تصنیفات چھوڑی ہیں۔ "الحاطہ فی تاریخ غرناطہ" تین جلدیں، غرناطہ کی شخصیتوں کے لیے تاریخی ڈکشنری کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 473۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.