پہلی جنگِ عظیم 1914-18 کے زمانے میں، جب عرب دنیا ترکی کی عثمانی خلافت کے جوئے سے رہائی کو اپنے لیے عظیم نجات تصور کیے ہوئے تھی، ان کے درمیان ایسے لوگ بھی تھے جو اس کے دور رس عواقب کو سمجھتے تھے اور اپنے عرب بھائیوں کو اس سے آگاہ کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر، امیر شکیب ارسلان 1869-1946 میں اسلامی اتحاد کی اہمیت کو محسوس کیا اور عربوں کو ترکوں کے خلاف بغاوت سے باز رکھنے کی کوشش کی، اگرچہ اس کے صلے میں انہیں یہ تحفہ ملا کہ ان کو "خوشامدی" اور "غدار" کہا گیا۔ اس کا جواب انہوں نے اپنے ایک شعر میں اس طرح دیا تھا: "سيَعْلَمُ قَوْمِي أَنَّنِي لَا أَغُشُهُمْ وَمَهْمَا اِسْتَطَالَ اللَّيْلُ فَالْإِسْبَاحُ وَاصِلُوا" "جلد ہی میری قوم جان لے گی کہ میں اس کو دھوکہ نہیں دے رہا ہوں؛ رات خواہ کتنی ہی طویل ہو جائے، صبح بہرحال آنے والی ہے۔ " کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 473۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.