نصف صدی بعد، ندوۃ العلماء لکھنؤ کے 19ویں اجلاس، مارچ 1925 میں، نواب صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحمن خان شروانی نے خطبۂ صدارت پڑھا تھا۔ پچاس برس پہلے ہمارے دینی مدارس کا جو حال تھا، اس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "ہمارے مدارس کی بے سروسامانی اس سے ظاہر ہے کہ حال میں جو فتنِ ارتداد پھیلا، تو ہر طرف سے یہ صدائیں بلند ہیں کہ تعلیمِ تبلیغ کے واسطے جماعتیں قائم کی جائیں۔ " یعنی قدیم تعلیم اور جماعتیں اس ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہیں، اور واقعہ بھی یہی ہے: تقریر اور تحریر دونوں کی وہ قوت نہیں جو سننے اور پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں بٹھا دے۔ معلومات، کتابوں کے ضمائر اور اشارات تک، شروح و حواشی قدیمہ کی عبارات تک محدود۔
کام چلے تو کیوں کر، شدید ضرورت ہے جدید جماعتوں کے قیام کی۔ ان سطروں کو لکھے ہوئے پچاس برس گزر گئے، مگر ہمارے اداروں کا یہ خلا بدستور باقی ہے۔ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے آج پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مبلغین کی ضرورت ہے۔ یورپ میں مذہب کو ازسرِ نو جاننے کا زبردست رجحان بیدار ہو گیا ہے، اور دوسرے مذاہب کے لوگ تیزی سے ان کے درمیان گھس رہے ہیں۔
مگر ہمارے مدارس کے پاس ایسے لوگ نہیں جو اہلِ یورپ کو اسلام کا پیغام دے سکیں۔ افریقہ کی مقامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کی بے حد مانگ ہے، مگر ہمارے یہاں ایسے لوگ مفقود ہیں جو ان زبانوں میں اسلامی کتابوں کا عمدہ ترجمہ کر سکیں۔ جدید اسلوب اور جدید استدلال کے ساتھ اسلامی کتابیں تیار کرنے کی ضرورت کا ہر طرف سے تقاضا ہو رہا ہے، مگر ہمارے رہنما جذباتی تقریروں کے سوا اور کوئی چیز آج کے انسان کو نہیں دے سکتے۔ ہندوستان میں خود غیر مسلم جماعتیں اپنے اہتمام سے ایسے اجتماعت کرتی ہیں جن میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ وہاں آ کر اپنے مذہب کا تعارف کرائیں، مگر اس ذمہ داری کو ادا کرنے والے آدمی بھی ہمارے پاس نہیں۔
کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 472۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.