← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Maulana Mufti Mohammed Shafi saheb
Urdu · 6 min
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا، اور سیدی حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال اسی جلسے پر تشریف لائے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا، "حضرت، کیسا مزاج ہے؟
" کہا، "ہاں ٹھیک ہی ہے میاں، مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کر دی۔ " میں نے عرض کیا، "حضرت، آپ کی ساری عمر علم کی خدمت میں، دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ ہزاروں آپ کے شاگرد علما ہیں، مشاہیر ہیں جو آپ سے مستفید ہوئے اور خدمتِ دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر اگر ضائع ہوئی تو پھر کس کی عمر کام میں لگی؟
" فرمایا، "میں تم سے صحیح کہتا ہوں، عمر ضائع کر دی میں نے، عمر ضائع کر دی۔ " فرمایا، "میں تم سے صحیح کہتا ہوں، عمر ضائع کر دی۔ " میں نے عرض کیا، "حضرت، بات کیا ہے؟ " فرمایا، "ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدوکاشش کا خلاصہ یہ رہا ہے کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں۔
امام ابو حنیفہ کے مسائل کے دلائل قائم کریں، اور دوسرے ائمہ کے مسائل پر آپ کے مسلک کی ترجیح ثابت کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا، اور علمی زندگی کا۔ " اب غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی۔ ابو حنیفہ ہماری ترجیح کے محتاج ہیں کہ ہم ان پر کوئی احسان کریں۔
ان کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے، وہ مقام لوگوں سے خود اپنا لوہا منوائے گا، وہ تو ہمارے محتاج نہیں۔ اور امام شافعی، مالک، اور احمد بن حنبل، اور دوسرے مسالک کے فقہاء جن کے مقابلے میں ہم یہ ترجیح قائم کرتے آئے ہیں، کیا حاصل ہے اس کا؟ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مسلک کو ثواب محتمل الخطا یعنی درست مسلک میں خطا کا احتمال موجود ہے ثابت کر دیں، اور دوسرے کے مسلک کو خطا محتمل الثواب، غلط مسلک جس کے حق ہونے کا احتمال موجود ہے کہیں۔ اس سے آگے کوئی نتیجہ نہیں۔
ان تمام بحثوں، تدقیقات، اور تحقیقات کا جن میں ہم مصروف ہیں۔ پھر فرمایا، "ارے میاں، اس کا تو کہیں حشر میں بھی راز نہیں کھلے گا کہ کون سا مسلک ثواب تھا اور کون سا خطا۔ اجتہادی مسائل صرف یہی نہیں ہیں کہ دنیا میں ان کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں بھی ہم تمام تر تحقیق و کاوش کے بعد یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی صحیح ہے اور وہ بھی صحیح۔
یا یہ کہ یہ صحیح ہے لیکن احتمال موجود ہے کہ یہ خطا ہو، اور وہ خطا ہے اس احتمال کے ساتھ کہ ثواب ہو۔ دنیا میں تو یہ ہے ہی، قبر میں بھی منکر نکیر نہیں پوچھیں گے کہ رفعِ دین حق تھا یا ترکِ رفعِ دین حق تھا۔ آمین بالجہر حق تھی یا بالسر حق تھی، برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا، اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔ " حضرت شاہ صاحب کے الفاظ یہ تھے: "اللہ نہ شافعی کو رسوا کرے گا، نہ ابو حنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ احمد ابن حنبل کو، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کا انعام دیا ہے، جن کے ساتھ اپنی مخلوق کے بڑے حصے کو لگا دیا ہے، جنہوں نے نورِ ہدایت چار سو پھیلایا ہے، جن کی زندگیاں سنت کا نور پھیلانے میں گزریں۔
اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا کہ وہاں میدانِ محشر میں کھڑا کر کے یہ اعلان کرے کہ ابو حنیفہ نے صحیح کہا یا شافعی نے غلط کہا تھا، یا اس کے برعکس۔ یہ نہیں ہوگا۔ تو جس چیز کو نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑ کر ہم نے اپنی عمر ضائع کر دی، اپنی قوت صرف کر دی، جو صحیح اسلام کی دعوت تھی، مجمع علیہ اور سبھی کے مابین جو مسائلِ متفقہ تھے، اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا، اور وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج یہ دعوت تو نہیں دی جا رہی۔ یہ ضروریاتِ دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں، اور اپنے وہ اغیار ان کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں، اور وہ منکرات جن کو مٹانے میں ہمیں لگے، وہ پھیل رہے ہیں۔
گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آ رہا ہے، شرک و بت پرستی پھیل رہی ہے، حرام و حلال کا امتیاز اٹھ رہا ہے۔ لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں۔ اس کے بعد حضرت شاہ صاحب نے فرمایا، "یوں غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کر دی۔ " کتاب اسباقِ تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 469۔