Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Musbat kaam ki Zaroorat

Urdu · 2 min

مثبت کام کی ضرورت: استعمار کے خلاف پچھلی صدیوں میں جو سیاسی ہنگامے کیے گئے ہیں، ان سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ البتہ یہ بڑا نقصان ہوا کہ دوسری قوموں کے لیے اسلام پر غور و فکر کا ماحول ختم ہو گیا۔ مغربی قومیں ہمارے لیے دعوت کا موضوع بننے کے بجائے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ مغرب کے لوگوں کو ہم نے اس نظر سے نہیں دیکھا کہ خدا کے یہ بندے ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو خدا کا پیغام پہنچائیں۔

اس کے برعکس ہم سمجھنے لگے کہ یہ بدترین مخلوق ہیں؛ انہیں ذلیل کرنا اور ان سے دور رہنا ہی تقدس کی بہترین نشانی ہے۔ مولانا مملوک علی کو اپنی ملازمت کی وجہ سے کبھی کبھی انگریز سے مصافحہ کرنا پڑتا تھا، مگر اس کے فوراً بعد وہ غسل خانے میں جا کر ہاتھ دھو لیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انگریز کو چھونے کی وجہ سے ان کا ہاتھ نجس ہو گیا ہے۔ استعمار ختم ہو گیا، مگر اسلام کے نام پر لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔

اب اس کا رخ خود مسلمانوں کی طرف ہے۔ مسلم ملکوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے کے ساتھ مسلم جماعتیں اپنے ملکوں کے مسلم حکمرانوں سے برسرِ پیکار ہیں۔ یہ باہمی تصادم نہ صرف ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام سے متنفر کر رہا ہے۔ ہم نے ایک ایسی چیز کے پیچھے اپنی عمر ضائع کر دی جس کا نہ دنیا میں کوئی فائدہ ہے، نہ آخرت میں اس کے بارے میں سوال ہونے والا ہے۔

کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 468۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.