← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Arabi Zaban nai Ahmiat hasil karrahi hai
Urdu · 8 min
عربی زبان نئی اہمیت حاصل کر رہی ہے۔ ہزار برس پہلے ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصے پر مسلمانوں کا اقتدار قائم تھا۔ یہ صرف ایک سیاسی غلبہ نہیں تھا، بلکہ مسلمان اس وقت کی دنیا میں علمی اور فکری امام بنے ہوئے تھے۔ اسپین میں مسلم عہد عروج کے وقت اسپینی عیسائیوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا تھا جس نے عملاً عرب تمدن کو اختیار کر لیا تھا۔
ایسے لوگوں کو اس زمانے میں مستعرب، یعنی موزہ ریپس، کہا جاتا تھا۔ قرطبہ کے بشپ، یعنی الوارو، نے ان عیسائی مستہذبین پر افسوس کرتے ہوئے لکھا تھا: "میرے مسیحی بھائی عربی اشعار اور حکایات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، اور مسلمان علما اور فلاسفہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اس نیت سے نہیں کہ ان کی تردید کریں، بلکہ اس ارادے سے کہ وہ عربی کے صحیح اور شستہ طرزِ ادا سے آشنا ہو سکیں۔ " آج کل ہماری کتب مقدسہ کی لاطینی تفاسیر کا پڑھنے والا کہاں ملتا ہے؟ اور ایسے لوگ کہاں ہیں جو اناجیل اور انبیاء صحف کا مطالعہ کرتے ہوں؟
افسوس کا مقام ہے کہ تمام عیسائی نوجوان، جو اعلیٰ قابلیت کے مالک ہیں، عربی زبان اور ادب کے سوا اور کسی ادب سے واقف نہیں ہیں۔ یہ لوگ عربی کتابیں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور ان کو اپنے کتب خانوں کے لیے زرِ کثیر صرف کر کے حاصل کرتے ہیں، اور اعلانیہ کہتے ہیں کہ یہ لٹریچر بڑی تحسین کے لائق ہے۔ اس کے برعکس، اگر ان کے سامنے مسیحی کتابوں کا ذکر کیا جائے تو وہ حقارت سے جواب دیں گے کہ اس قسم کی کتابیں ان کی توجہ کے لائق نہیں۔ افسوس کہ مسیحی اپنی زبان تک بھول گئے ہیں۔
ہزار میں سے بے مثل ایک شخص ایسا ملے گا جو معقول قسم کی لاطینی میں اپنے دوست کے نام معمولی سا خط بھی لکھ سکے، لیکن اگر عمدہ شاعری کرتے ہیں کہ خود عرب بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ یہ اقتباس اسپینی مستشرق پروفیسر پولیسا، یعنی پالینسیا، کی کتاب سے ماخوذ ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1928 میں شائع ہوا تھا۔ مصری فاضل حسین مونس نے اس کو اسپینی سے عربی میں منتقل کیا ہے۔ مطبوعہ قاہرہ، 1955۔
تاتاریوں نے جب عالمِ اسلام کو تاراج کیا تو صورتحال بدلنے لگی۔ اب نہ صرف سیاسی اعتبار سے بلکہ فکری اور علمی حیثیت سے بھی مسلم قومیں پستی کی طرف چلی گئیں۔ گیارہویں صدی عیسوی کے شیخ عبدالقادر جرجانی 471 ہجری کے قلم سے یہ الفاظ نکلے کہ "اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ انسانی طبیعتیں بدل گئی ہیں۔ جہل اور لاعلمی نے علم و فضل کا درجہ لے لیا ہے۔
جو اوصاف پہلے قابلِ تعریف سمجھے جاتے تھے، وہ قابلِ مذمت بن گئے ہیں۔ " حتّى صار أعجز الناس رأيًا عند الجميع، من كانت له همّة في أن يستفيد علمًا أو يزداد فهمًا أو يكتسب فضلًا أو يجعل له ذلك بحالٍ شغلًا. دلائل العجاز، جلد 1، صفحہ 33۔ یعنی یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ لوگوں کے نزدیک وہ شخص سب سے زیادہ ناکارہ سمجھا جاتا ہے جو علوم عربیہ کا شوق رکھتا ہو اور اس میں استفادہ و ترقی میں مشغول ہو۔
اٹھارویں صدی میں جب مغربی قومیں عالمِ اسلام پر غالب آ گئیں تو اس میں اور ترقی ہوئی۔ تقریباً 200 برس تک یہ حال رہا کہ عربی علوم میں مشغول ہونا، کم از کم دنیاوی اعتبار سے، بالکل بے فائدہ سمجھا جانے لگا۔ مسٹر ہونا عزت کی علامت اور مولوی ہونا بے وقعتّی کا نشان بن گیا۔ مگر بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں صورتحال دوبارہ تبدیل ہو رہی ہے۔
ہندوستان میں بہت سے ادارے ہیں جو مختلف بیرونی زبانیں سکھانے کا کورس چلاتے ہیں۔ چند برس پہلے ان میں عربی زبان کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ آج یہ حال ہے کہ بڑے بڑے انگریزی اخبار میں جب ان اداروں کا اشتہار چھپتا ہے تو عربی زبان مختلف غیر ملکی زبانوں کی فہرست میں صرف انگریزی کے بعد نمبر 2 پر درج ہوتی ہے۔ ہندوستانی اخبار میں ایسے اشتہارات شائع ہونے لگے ہیں جن میں خصوصیت کے ساتھ عربی میں اشتہاری عبارتیں شامل رہتی ہیں۔
یہ محض ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربی زبان موجودہ زمانے میں کتنی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اب وہ نہ صرف اقوامِ متحدہ اور اس کی دوسری ایجنسیوں کی سرکاری زبان ہے، بلکہ جدید دنیا کی تمام بڑی بڑی سرگرمیوں میں اس کا استعمال ہونے لگا ہے۔ عربی زبان کی اس جدید اہمیت نے ہمارے عربی مدارس کی تعلیم میں ایک نئی اہمیت پیدا کر دی ہے۔ ان مدارس کے طلبہ اگر تکمیل نصاب کے ساتھ عربی لکھنے اور بولنے کی استعداد بھی لے کر نکلیں تو انہیں یہ شکایت نہ ہوگی کہ آج کی دنیا میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
زیل میں ایک عالمی تجارتی ادارے کے اشتہار کا نمونہ دیا جا رہا ہے جو ہانگ کانگ کے اخبار میں شائع ہوا تھا: "Aclaimed the Best in the World, Recognized as Melius Dumonde, Anerkannatarmassindas Best of Darwelp, Recognized as Como Las Majors del Mundo. Ajma'annas 'ala annahal ajwad fi alam. " ماڈرن ایشیا، ہانگ کانگ، اکتوبر 1976۔ Far East Pacific Division, Snap-on Tools International Ltd., 1032104 Hollywood, Commercial House 3-5, Old Bailey Street, Post Box 1619, Hong Kong, BCC 16.
On inquiry card: "Latin American Caribbean Division, Snap-on International Americas Ltd., Deadland Towers, Suite 314, 9200 South Deadland Boulevard, Miami, Florida, 33156." کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 465۔