← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Al-Eraqu Awwalu Qatarin fil-Alam
Urdu · 6 min
العراق أول قطر في العالم اتخذ الرياضة أسلوبًا للحياة. یہاں عنوان کی جگہ پر ہم ایک عربی اخبار کا تراشہ نقل کر رہے ہیں، یہ عراقی ہفتہ وار "الرياضة والشباب" بغداد سے لیا گیا ہے۔ "الرياضة والشباب" نمبر 102، 102، 102، May 23، 1977۔ عرب دنیا میں خطاطی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، نئے نئے انداز کی خوبصورت تحریریں وجود میں آ رہی ہیں۔
اوپر کا تراشہ اسی کا ایک سادہ سا نمونہ ہے۔ اسلام آیا تو مکہ اور مدینے میں بھی مثل ایک درجن آدمی لکھنا جانتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو لوگ قید ہوئے، ان میں سے کچھ کتابت کا فن جانتے تھے۔ ان کے فدیے کے لیے یہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینے کے 10 مسلمان بچوں کو لکھنا سکھا دیں، اس کے بعد وہ رہا کر دیے جائیں گے۔
اس طرح مدینے میں لکھنے والوں کی کثرت ہو گئی، تاہم کتابت کا فن اس وقت بالکل ابتدائی حالت میں تھا۔ عباسی دور میں دوسرے فنون کی طرح اس کو کافی ترقی ہوئی۔ نئے نئے ڈیزائن پیدا کرنے کی کوشش میں خط مرصع، خط ریاسی وجود میں آئے۔ خط ریاسی اپنے موجد "ذو الرياستين" فضل ابن سہل کی طرف منسوب ہے۔
اس زمانے میں خط کوفی کی 20 سے زائد شکلیں بن گئی تھیں، تاہم یہ سارے خطوط ابتدائی صورت میں تھے۔ عربی خط کو حسین بنانے کا کام عربی خط کو حسین بنانے کا کام سب سے پہلے ابو علی محمد ابن مقلا 328 ہجری نے کیا۔ اس کے بعد علی ابن ہلال 413 ہجری آئے اور انہوں نے اس کی تہذیب و تحسین میں مزید اضافہ کیا۔ عربی خط ارتقا کے مراحل سے گزرتا رہا اور اس نے ایک مستقل آرٹ کی حیثیت اختیار کر لی۔
اب یہ خط اتنا دلاویز بن چکا تھا کہ بہت سی دوسری قومیں جب اسلام لائیں تو انہوں نے اپنی قومی زبان کے لیے اسی رسم خط کو پسند کر لیا۔ مثلاً ترکی، فارسی، افغانی، سندھی، اردو، اور افریقہ کی مختلف زبانیں۔ جمالیاتی ذوق انسان کا ایک فطری ذوق ہے۔ یہ ذوق مصوری، مجسمہ سازی، اور آرٹ کی دوسری صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔
اسلام میں چونکہ آرٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے، مسلمانوں کے جمالیاتی ذوق نے اپنے اظہار کی دوسری صورتیں تلاش کر لیں، مثلاً تعمیرات، چمن بندی، وغیرہ۔ انہی صورتوں میں سے ایک فن کتابت بھی ہے۔ کتابت کے فن کا چونکہ بہت گہرا تعلق قرآن و حدیث سے بھی تھا، اس لیے اس فن کی طرف مسلمانوں کی توجہ بہت زیادہ ہوئی۔ مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے خطاط پیدا ہوئے جنہوں نے اس فن کو اعلیٰ ترین جمالیاتی معیار پر پہنچا دیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عربی خط کی تحسین کے لیے جتنی کوششیں مسلمانوں نے کیں، اتنی کسی بھی دوسرے رسم الخط کے لیے کسی قوم نے نہیں کیں۔ عربی خط آج دنیا کا حسین ترین خط سمجھا جاتا ہے۔ فنی اور تمدنی ترقیوں کا بہت گہرا تعلق اقتصادیات سے ہوتا ہے۔ چنانچہ فن کتابت کی ترقیاں بھی اس وقت تک جاری رہیں جب تک اقتصادیات کے سرے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے۔
اٹھارویں صدی میں مغلوں اور ترکوں کے زوال اور جدید صنعتی نظام کے ظہور نے مسلمانوں کو اقتصادیات میں پیچھے کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری سرگرمیوں کے ساتھ خط کی تحسین و ترقی کا کام رک گیا۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پٹرول کی دولت پٹرول کی دولت کے ظہور نے دوسری چیزوں کے ساتھ فن کتابت کو بھی دوبارہ نئی ترقی کے مواقع دے دیے ہیں۔ عرب ممالک میں ایسے خطاط پیدا ہو رہے ہیں جنہوں نے عربی خط کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہے۔
آفاق عربیہ فن کتابت کی ان جدید ترقیوں کی ایک مثال ہے۔ یہاں یہ اضافہ غیر متعلق نہ ہوگا کہ جن زبانوں نے عربی رسم الخط کو اپنایا، وہ سب موجودہ زمانے میں اپنے حسب حال اس کے ٹائپ کو بھی اختیار کر چکی ہیں۔ وہ عربی خط کے حسن کے ساتھ دور جدید کی مشینی خوبیوں کو جمع کر کے وقت کے ساتھ ترقی کر رہی ہیں۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ اسی زبان کا ہے جس کے وارثوں کا یہ خیال ہے کہ ان کی زبان اسی طرح تمام زبانوں میں افضل ہے جس طرح اس ان کا رسول تمام رسولوں میں۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ہماری زبان اردو ہے جس کے معنی لشکر کے ہوتے ہیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 463۔