اقتقابل: مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے 1946 میں پہلی بار حیدرآباد کا سفر کیا تھا۔ اس سفر کی روداد کے ذیل میں موصوف لکھتے ہیں: "میں چونکہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تنخواہ نہیں لیتا تھا، میرے پاس واجبی کپڑے تھے۔ " اس سفر میں کوئی شیروانی بھی ساتھ نہیں تھی؛ شیروانی قدیم ریاست حیدرآباد میں شریف انسان کی وردی تھی جس سے اس کے معیار کا اندازہ ہوتا تھا۔ بعض پروفیسر صاحبان سے ایک ہی دو بار ملنے سے اندازہ ہو گیا کہ شیروانی نہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح طریقے پر ملتفت نہیں ہوئے۔
اس وقت ہمارے دارالعلوم کے ایک پشاوری طالب علم، مولوی محمد شریف، حیدرآباد میں تھے۔ میں نے اس غرض کے لیے ان کی شیروانی مستعار لی۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نگاہیں بدل گئیں اور لوگ کسی قدر احترام سے ملنے لگے۔ کاروانِ زندگی، صفحہ 322۔
اب دوسرا واقعہ دیکھیے: حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں اسلامی فوج کے مختلف نمائندے ایرانی فوج کے سپہ سالار رستم کے دربار میں گئے۔ ان میں سے ایک ربیع بن عامر بھی تھے۔ وہ رستم کے دربار میں پہنچے تو ان کے جسم پر نہایت معمولی کپڑے تھے، تاہم ان کے غیر معمولی کلام کو سن کر رستم مرعوب ہو گیا۔ اس وقت رستم اور اس کے درباریوں سے جو گفتگو ہوئی، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قَالَ: هَلْ رَأَيْتُمْ قَدْ تُوْ أَعَزَّ وَأَرْجَحَ مِنْ كَلَامِ هَذَا الرَّجُلِ؟
فَقَالُوا: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَمِيلَ إِلَى شَيْءٍ مِنْ هَذَا وَتَدْعَا دِينَكَ لِهَذَا الْكَلْبِ أَمَا تَرَى إِلَى ثِيَابِهِ؟ فَقَالَ: وَيْلَكُمْ لَا تَنْظُرُوا إِلَى الثِّيَابِ، وَانْظُرُوا إِلَى الرَّأِي وَالْكَلَامِ وَالسِّيرَةِ؛ إِنَّ الْعَرَبَ يَسْتَخِفُّونَ بِالثِّيَابِ وَالْمَأْكَلِ، وَيَسُونُونَ الْأَحْسَابِ. البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 40۔ یعنی: رستم نے کہا، "کیا تم نے اس آدمی کے کلام سے زیادہ مضبوط اور اعلیٰ بات کبھی دیکھی ہے؟
" درباریوں نے کہا، "خدا کی پناہ کہ آپ اس کی کسی بات کی طرف مائل ہوں اور اپنے دین کو چھوڑ کر اس کتے کے ساتھ ہو جائیں۔ کیا آپ نے اس کے کپڑے کو نہیں دیکھا؟ " رستم نے کہا، "تمہارا برا ہو، کپڑے کی طرف نہ دیکھو، بلکہ رائے اور بات اور کردار کی طرف دیکھو۔ عرب لوگ کپڑے اور کھانے کو ناقابلِ لحاظ سمجھتے ہیں، البتہ وہ حسب نسب کی حفاظت کرتے ہیں۔
گویا ہمارے مسلم دانشوروں میں وہ حقیقت شناسی بھی نہ تھی جو قدیم زمانے میں ایران کے پارسی لیڈروں کو حاصل تھی۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 448۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.