← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Maut ke aqeed-e-ne Zindagi dedi
Urdu · 4 min
موت کے عقیدے نے زندگی دے دی۔ ایک نوجوان نے عربی مدرسے سے فراغت حاصل کی، اس کے بعد ان کا ارادہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اسی دوران گھر سے ایک خبر آئی جس نے ان کے حوصلے ختم کر دیے۔ خبر یہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔
ان کے گھر پر معمولی کھیتی باڑی تھی، اس میں محنت کر کے ان کے والد صاحب گھر کا کام چلاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد گھر پر صرف ان کی بیوی تھی، ان کی بیوی تھیں، اور چند چھوٹے بچے۔ اب مذکورہ نوجوان ہی گھر کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہوا۔
والد صاحب کی وفات کا مطلب ان کے لیے صرف ایک تھا، وہ یہ کہ وہ مزید تعلیم کا ارادہ ترک کر کے اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے والد صاحب کی طرح کھیتی باڑی کے کام میں لگ کر گھر کا انتظام سنبھالیں۔ مدرسے میں ایک بزرگ سے ان کا قریبی تعلق تھا، اس کے بعد وہ ان سے ملے اور کہا: "حضرت، اب میں یہاں سے جا رہا ہوں اور آپ سے آخری ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ " بزرگ نے کہا: "آخر کیا بات ہے؟ کہاں جا رہے ہو؟
" انہوں نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میں ہی اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں، اس لیے اب مجھ ہی کو گھر کا انتظام سنبھالنا ہے۔ شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ میرے ہاتھوں میں قلم کے بجائے حل ہو۔ بظاہر اب میرے لیے مزید تعلیم کا کوئی سوال نہیں۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: "کیا موت آپ کے لیے نہیں ہے؟
کیا آپ کو یقین ہے کہ گھر پہنچ کر آپ کا انتقال نہیں ہو جائے گا؟ پھر اگر آپ کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے بعد؟ " بزرگ نے کہا کہ کسی گھر کا بنانے والا کوئی بڑا نہیں ہوتا۔ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ کسی گھر کا بنانے والا کوئی بڑا نہیں ہوتا۔
ہر گھر کا سرپرست اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے جینے مرنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبے کو جاری رکھتے اور گھر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتے۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبے کو جاری رکھیے اور گھر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے۔
آپ تھوڑی دیر کے لیے سمجھ لیجیے کہ میرا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ یہ بات نوجوان کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے گھر کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے مال کو اللہ کے حوالے کر کے اپنی تعلیمی جدوجہد شروع کر دی۔ انہوں نے مدینے کے جامعہ اسلامیہ میں درخواست بھیجی اور اس کے لیے ضروری کوششیں کرنے لگے۔
کوشش کامیاب رہی اور ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینے میں ہو گیا۔ انہوں نے مدینے کا سفر کر کے جامعہ اسلامیہ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ سعودی عرب کے دارالافتا کے تحت افریقہ کے ایک ملک میں مبلغ اور استاد کی حیثیت سے بھیج دیے گئے۔ اور اپریل 1980 کو ایک ملاقات میں انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ افریقہ میں رہتے ہوئے ان کو 10 سال ہو چکے ہیں اور ان کی موجودہ زندگی سے وہ اور ان کے گھر والے دونوں مطمئن ہیں۔
وہ اپنے کو ایک کامیاب انسان سمجھتے ہیں اور یہ کامیابی ان کو اس مختصر سے جملے سے ہوئی کہ "سمجھ لیجیے کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا ہے"۔ موت کا عقیدہ بظاہر منفی عقیدہ ہے، مگر وہ اپنے اندر زبردست مثبت اثرات رکھتا ہے۔ جس کو موت کا یقین ہو، زندگی کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ جو اپنے کو مرتا ہوا دیکھ لے، وہ اپنی زندگی میں زیادہ باعمل ہو جاتا ہے۔
کتاب: اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 426۔