← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Qanaat
Urdu · 8 min
قناعت۔ مولانا حمید الدین فراہی، 1863 تا 1930، ایک مخلص عالم تھے۔ ابتداً وہ علی گڑھ اور حیدرآباد کی یونیورسٹیوں میں استاد رہے، آخر عمر میں وہ مدرسة الإصلاح سرائے میر اعظم گڑھ میں مقیم ہو گئے اور قرآن اور تعلیمِ دین کی خدمت کرتے ہوئے عمر گزار دی۔ مولانا عبدالماجد دریابادی نے ان کی وفات کے بعد جو مضمون لکھا، اس کا ایک ٹکڑا یہ تھا: "سادہ کھاتے، سادہ پہنتے، دنیا سے بقدرِ ضرورت لیتے۔
" کھانا کھا رہے ہیں، دسترخوان پر صرف دال اور روٹی ہے۔ دال میں نمک کم ہے، بلا کسی ناخوشی کے اوپر سے نمک ملایا، اور چہرے تک سے ناگواری نہ ظاہر ہونے دی۔ دوسرے دن پھر وہی کھانا: "آج نمک بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ " اسی انداز سے اٹھے اور آج پانی ملا کر پھر اس ناخوشگوار کو خوشگوار بنا لیا۔
شریک طالب علم کچھ جھنجھلائے، کچھ دنگ رہ گئے، منہ سب نے بنایا۔ فرمایا: "بھائی، بات کچھ نہیں، ایک چٹنی تیار رکھو، بغیر پیسہ کوڑی کے خرچ سے تیار ہو جاتی ہے۔ " جس کھانے میں ملا لو گے، مزیدار ہو جائے گا۔ چٹنی کا نام ہے قناعت۔
قناعت محض ایک درویشانہ عادت نہیں، وہ زندگی کی ایک زبردست حقیقت ہے۔ قناعت دراصل اس پختہ مزاجی کا نام ہے کہ آدمی ان حالات کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں اس مزاج کی ضرورت ایک عام آدمی کو بھی ہوتی ہے اور ایک بادشاہ کو بھی۔ عام آدمی کو اگر یہ نعمت حاصل ہو جائے تو وہ اپنے بے مزہ سالن کو ہنسی خوشی کھا کر اپنے کام میں لگ جائے گا، نہ کہ وہ اس پر غصہ ہو کر اپنے وقت اور اپنی طاقت کو خواہ مخواہ برباد کرے۔
اسی طرح اگر بادشاہ کو یہ نعمت مل جائے تو وہ عوام کے جمہوری رجحانات سے موافقت کر کے اپنی بادشاہت کو دیر تک باقی رکھ سکتا ہے، بجائے اس کے کہ وہ عوامی تقاضوں سے لڑنے لگے اور بالآخر اپنے تخت و تاج کو کھو دے۔ قناعت اکثر نفسیاتی امراض کا علاج ہے۔ امریکہ کے ایک شخص نے اندیشے، یعنی fears، کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ بہت سے لوگوں سے مل کر اس نے پوچھا کہ آپ کو کسی قسم کے اندیشے لاحق ہوئے، اور ان کا انجام کیا رہا؟
تحقیق کے بعد اس نے پایا کہ بیشتر اندیشے ایسے تھے جو صرف اندیشے ثابت ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہیں بنے، حالانکہ ان لوگوں نے اپنے ان امکانی اندیشوں کے غم میں اپنی صحتیں برباد کر لیں اور دوسرے بہت سے نقصانات کر ڈالے۔ اندیشہ ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے طرح طرح کے اندیشوں میں مبتلا رہتا ہے، جو اس کے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ آدمی کے اندر اگر قناعت کا مزاج آ جائے تو اس کو خود بخود اس قسم کے پیشگی اندیشوں سے نجات مل جائے گی۔
جب آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کو جو مل جائے اسی پر وہ راضی رہے، تو اندیشوں کی بنیاد پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت؟ قناعت کا ہر شخص کو یہ پیغام ہے: دنیاوی نقصان کا غم نہ کرو۔ اگر وہ ہو چکا ہے تو وہ ایک ہونے والی بات تھی جو ہوئی، اور اگر وہ صرف ایک اندیشہ ہے تو بہت سے اندیشے ایسے ہیں کہ آدمی ان کے لیے اپنے آپ کو پریشان کرتا ہے، حالانکہ وہ کبھی واقع نہیں ہوتے۔ قناعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو دنیا کے مسائل میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے بچاتی ہے، اور اس طرح اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی قوت کو زیادہ سے زیادہ آخرت کے کاموں میں لگا سکے۔
آخرت کے مسافر کے لیے قناعت اتنی ہی ضروری ہے جتنا دنیا کے مسافر کے لیے حرص۔ جس آدمی کے اندر حرص نہ ہو، وہ متاعِ دنیا کا مالک نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جس کے اندر قناعت نہ ہو، وہ متاعِ آخرت کو پانے سے محروم رہے گا۔ قناعت کی اسی اہمیت کی بنا پر دین میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
عبداللہ ابن عمر ابن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قد أفلح من أسلم و رزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه" ۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1054۔ یعنی وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، جس کو بقدرِ ضرورت رزق ملا، اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کیا۔ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں۔
آدمی دنیا کی چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ حاصل کر لے، انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں۔ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں۔ آدمی دنیا کی چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ حاصل کر لے، وہ اس کی تسکین کے لیے ہمیشہ ناکافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ پانے والا بھی اس دنیا میں اتنا ہی پریشان رہتا ہے جتنا کم پانے والا۔
اس لیے اس دنیا میں اگر کوئی چیز آدمی کی تسکین کا ذریعہ بن سکتی ہے تو وہ قناعت ہے، کیونکہ قناعت تو ہر حد پر مطمئن ہو جاتی ہے، جبکہ حرص کی حد پر مطمئن نہیں۔ جبکہ حرص کی حد پر مطمئن نہیں ہوتی ہے۔ قناعت دراصل حقیقت پسندی کا دوسرا نام ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں مختلف وجوہ سے ہماری مرضی کے خلاف واقعات پیش آتے ہیں۔
کہیں دوسرے کو زیادہ مل جاتا ہے اور ہم کو کم۔ کہیں خود اپنی حاصل شدہ چیز کو پوری طرح استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کہیں ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ پاتے ہیں وہ اس سے بہت کم ہوتا ہے جو ہم اپنے اندازے کے مطابق اپنے لیے چاہتے تھے۔ کہیں کوئی ناگہانی حادثہ پیش آ کر ہمارے بنے بنائے معاملے کو بگاڑ دیتا ہے۔
ایسے تمام مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ نقصان کے بعد نقصان کے غم سے اپنے کو بچایا جائے۔ اور قناعت آدمی کی زندگی میں یہی اہم خدمت انجام دیتی ہے۔ قناعت آدمی کو بے صبری سے بچاتی ہے، وہ تلخ یادوں کو بھلاتی ہے، وہ زندگی کی ناخوشگواریوں کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 428۔