Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Isi se Tameer-e-dunya bhi

Urdu · 8 min

اسی سے تعمیرِ دنیا بھی۔ ایک مرتبہ مجھے مسلم نوجوانوں کے ایک اجتماع میں بلایا گیا، میں نے وہاں آخرت کے موضوع پر کچھ باتیں عرض کیں۔ میں نے کہا کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور آخرت کی فکر رکھتے ہوئے زندگی گزارے۔ میں اپنی بات پوری کر کے چپ ہوا تو ایک نوجوان نے کہا، "یہ تو خبر ٹھیک ہے، اب اصل بات شروع کیجیے۔

" ان کو کسی نے بتایا تھا کہ میں تعمیرِ ملت کے موضوع پر کچھ باتیں پیش کروں گا۔ آخرت کا وعظ سن کر انہیں محسوس ہوا کہ میں نے اصل بات نہیں کہی، میں نے مسلمانوں کے دنیاوی مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ دنیا کی تعمیر آخرت کی تعمیر سے الگ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ تعمیرِ آخرت ہی میں تعمیرِ دنیا کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ دنیا کی تعمیر کے لیے مسلمانوں کو تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایک یہ کہ وہ ایک باشعور قوم بنیں، دوسرے یہ کہ انہیں اقتصادی خوشحالی حاصل ہو، تیسرے یہ کہ وہ ایک طاقتور قوم ہوں۔

اور یہ تینوں چیزیں آخرت کے عقیدے سے کمال درجے میں حاصل ہوتی ہیں۔ نمبر 1: آخرت کا عقیدہ انسانی شعور کو بیدار کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔ آخر، آخرت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی غیبی حقیقتوں کے بارے میں حد درجہ حساس ہو جائے۔ جس آدمی کا شعور اتنا بیدار ہو کہ وہ نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھنے لگے، وہ دکھائی دینے والی چیزوں کو اور بھی زیادہ دیکھنے والا بن جائے۔

آخرت کوئی رسمی عقیدہ نہیں، وہ انسان کے شعور کو آخری حد تک جگہ دینے والی سب سے بڑی انقلابی تدبیر ہے۔ آخرت کے عقیدے سے سنجیدگی اور احتیاط پیدا ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو سوچنے والا اور حقیقت پسند انسان بناتا ہے۔ ایسا آدمی ہر معاملے کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔

وہ چیزوں کو ان کی اصلیت اور واقعیت کے اعتبار سے جانچنے لگتا ہے، نہ کہ محض ان کی ظاہری صورت کے اعتبار سے۔ یہ باتیں جس کے اندر پیدا ہو جائیں، وہ سب سے زیادہ باشعور انسان بن جاتا ہے۔ وہ دنیا سے لے کر آخرت تک تمام چیزوں کو خدائی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی بہترین واقعاتی مثال صحابہ کرام کا گروہ ہے۔

انہوں نے مشکل ترین حالات میں دعوتِ اسلامی کے کام کو منظم کیا، اور قدیم آباد دنیا کے بڑے حصے کو نہ صرف مسلمان بنایا بلکہ ان کی زبان اور تہذیب تک کو بدل ڈالا۔ یہ سب کام وہ کبھی نہیں کر سکتے تھے اگر وہ شعور کی اعلیٰ سطح پر نہ پہنچ گئے ہوتے۔ نمبر 2: اقتصادی ترقی ہمیشہ دو چیزوں کا نتیجہ ہوتی ہے: محنت اور دیانت داری۔ اور آخرت کے عقیدے سے یہ دونوں چیزیں کمال درجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

آخرت کا عقیدہ آدمی کے دل میں یہ بات بٹھا دیتا ہے کہ عمل کیے بغیر کسی کو کوئی انعام نہیں مل سکتا۔ آخرت کا عقیدہ آدمی کو بتاتا ہے کہ خدا کے یہاں صرف سچائی اور اخلاص کی قیمت ہے۔ جھوٹ اور فریب کی اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس طرح جو شخص حقیقی معنوں میں آخرت پسند ہو جائے، وہ اس کے لازمی نتیجے کے طور پر محنتی اور دیانت دار بن جاتا ہے۔

اور جس شخص کے اندر یہ دونوں خصوصیات پیدا ہو جائیں، وہ سفر سے، وہ صفر سے آغاز کر کے بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اقتصادیات کی دنیا میں کسی کے لیے سب سے بڑا سرمایہ محنت اور دیانت داری ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں آخرت کے عقیدے کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ جس شخص کے اندر آخرت کا احساس ہوگا، اس کے اندر لازمی طور پر محنت بھی ہوگی اور دیانت داری بھی۔

اس کی ایک واضح مثال صحابہ و تابعین کا گروہ ہے۔ یہ لوگ اپنے وطن سے بے سر و سامانی کی حالت میں نکلے، مادی وسائل کے اعتبار سے کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے وقت کی تجارتوں پر قبضہ کر لیا۔ وہ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک کی منڈیوں پر چھا گئے۔

ان کی اس اقتصادی کامیابی کا راز یہی دو چیزیں تھیں: محنت اور دیانت داری۔ نمبر 3: کسی قوم کی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ اتحاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا دوسرا نام طاقت ہے، اور اختلاف کا دوسرا نام کمزوری۔ کسی گروہ کے افراد میں جب اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟

اس کی وجہ صرف ایک ہوتی ہے، اور وہ افراد کی انانیت ہے۔ اگر ہر فرد میں تواضع آ جائے، ہر آدمی اپنی انا کو ختم کر چکا ہو، تو وہاں اختلاف کا سرے سے خاتمہ ہو جائے گا۔ اور آخرت کا عقیدہ سب سے زیادہ یہی چیز پیدا کرتا ہے۔ جس شخص کے دل میں خدا کی ہیبت اور آخرت کا فکر بیٹھ جائے، اس کے اندر سے گھمنڈ اور بڑائی کے تمام احساسات نکل جاتے ہیں۔

خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو ایک بے میں والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہی کیفیت اتحاد کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ جس قوم کے افراد سے گھمنڈ اور انانیت نکل جائے، ان کے اندر سے گویا اختلاف کی جڑ ختم ہو گئی۔ ایسے لوگ سب سے زیادہ متحد قوم بن جاتے ہیں۔

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اتحاد سے بڑی کوئی دوسری طاقت نہیں۔ اس کی واقعاتی مثال اسلام کی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانے میں جو لوگ تیار ہوئے، وہ بہت زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی فکر کرنے والے تھے۔ چنانچہ ان ابتدائی مسلمانوں میں بے پناہ اتحاد پایا جاتا تھا۔

اسی اتحاد کی طاقت سے انہوں نے اپنے سے زیادہ طاقتور اور اپنے سے زیادہ سامان والے دشمنوں کو مغلوب کر لیا۔ مگر بعد کے دور میں جو لوگ اسلام کی صفوں میں شامل ہوئے، ان میں آخرت کا عقیدہ اتنا گہرا اور اتنا زندہ نہ تھا۔ چنانچہ ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ اس کی بات مانی جائے، اس کی بڑائی تسلیم کی جائے۔ اس کے نتیجے میں ایسا اختلاف پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

وہ لوگ جو اب تک کفر و شرک کا زور توڑنے میں لگے ہوئے تھے، وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو برباد کرنے میں لگ گئے۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 423۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.