Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Alfaaz, Alfaaz, Alfaaz

Urdu · 4 min

الفاظ، الفاظ، الفاظ۔ سیکولر اور جمہوری قوتوں کو منظم کیجیے، خیر پسند اور شر بیزار انسانوں کو پکاریے۔ ووٹوں کی طاقت کو دباؤ، ووٹوں کی طاقت کو دباؤ کی سیاست کے لیے استعمال کیجیے۔ جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعے اپنی آواز بلند کیجیے۔

اپنے حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی دھوم مچائیے۔ ظالمانہ حکومت کو متحدہ طاقت سے اکھاڑ پھینکیے۔ جمعہ کے روز مسجدوں اور مدرسوں میں یومِ دعا منائیے۔ لوگوں کے دلوں کے دروازے پر دستک دیجیے۔

ہر روز کاغذ کے لاکھوں ورق اس قسم کے الفاظ سے سیاہ ہو رہے ہیں، اور بے شمار لاؤڈ اسپیکر ہر دن ان کو فضا میں بکھیر رہے ہیں۔ مگر ان کی کوششوں سے اتنا فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا قوم کی جیب سے ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ کی پہلوانی ہے، اور الفاظ کی پہلوانی کسی قوم کو حقیقت کی دنیا کا سرمہ نہیں بنا سکتی۔ فرض نماز کا وقت ہو جائے اور مسجد سے آواز بلند ہو، حی علی الصلاۃ، آؤ نماز کی طرف، تو اس وقت عبادتِ الٰہی کا مقام مسجد ہوتا ہے۔

ہر شخص کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مسجد میں آ کر اپنے عابد ہونے کا ثبوت دے۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص ایسا کرے کہ عین اس وقت مسجد کے باہر میدان میں شامیانہ لگائے، اور لاؤڈ اسپیکر پر فلسفۂ عبادت کے موضوع پر لمبی تقریر شروع کر دے، تو یہ اس کے عابد ہونے کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ صرف ظالم ہونے کا ثبوت ہوگا۔ کیونکہ اس وقت کسی کے لیے اپنے عابد ہونے کا ثبوت دینے کا مقام مسجد ہے، نہ کہ جلسہ گاہ میں عبادت کے عنوان پر شاندار تقریر۔ اس قسم کی غیر مطلوب عبادت آج لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

دور کے مظلومین کے بارے میں تجویزیں اور بیانات چھپ رہے ہیں، حالانکہ مظلوموں سے ہمدردی کا ثبوت دینے کا مقام سب سے پہلے آدمی کا اپنا پڑوس ہے۔ دوسروں کو انسانیت اور اخلاق کا سبق دینے کے لیے کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں، حالانکہ انسانیت دوست اور بااخلاق حقیقتاً وہ ہیں جو خود اپنے معاملات میں انسانی اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے۔ ملت کو بچاؤ کا نعرہ ہر ایک لگا رہا، ملت کو بچاؤ کا نعرہ ہر ایک لگا رہا ہے، مگر فرد کو بچانے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ آدمی اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت وہاں دینا چاہتا ہے جہاں اس کی خدا پرستی ایک شاندار چیز بن کر لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کرے، حالانکہ اس کا خدا جہاں اس کی خدا پرستی کا امتحان لینے کے لیے کھڑا ہوا ہے، وہ مقامات وہ ہیں جہاں سب کچھ کر کے بھی آدمی کو کوئی عزت اور شہرت حاصل نہیں ہوتی۔

کتاب اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 410۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.