Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Musalman - Kal aur Aaj

Urdu · 9 min

مسلمان کل اور آج۔ آج کل کسی بڑے قومی ادارے کا ذکر ہو تو مشکل ہی سے اس کے ذیل میں کسی مسلمان کا نام آتا ہے، مگر آزادی سے قبل صورتحال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت قومی اداروں کے ساتھ مسلمانوں کے نام اتنی کثرت سے وابستہ تھے کہ کسی ادارے کے تذکرے کے ذیل میں کچھ نہ کچھ مسلمانوں کا تذکرہ آ جانا ضروری تھا۔ مسٹر ڈی ڈی لکھن پال، سابق صدر ریڈیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا، پچھلے دور میں لمبی مدت تک آل انڈیا ریڈیو سے متعلق رہے ہیں۔

انہوں نے قومی نشریاتی ادارے سے متعلق اپنی یادداشت شائع کی ہے: "ٹائمز آف انڈیا، 3 جولائی 1975"۔ اس مضمون میں آل انڈیا ریڈیو کے سابقہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے جن شخصیتوں کے نام آئے ہیں، ان کی تعداد کل 8 ہے، جن میں سے 4 مسلمان ہیں: سر ابراہیم رحمت اللہ، سر ابراہیم رحمت اللہ، وائی اے فضل بھائی حاجی حسن علی، سر اکبر حیدری۔ اسی طرح سوتنتر لیڈر مسٹر مینو مسانی، پیدائش 1905۔ ایک اخبار نویس نے پوچھا: "آپ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ کس سے متاثر ہوئے ہیں؟

" انہوں نے جواب دیا: "یوسف مہر علی نے میری زندگی کو نئے افکار سے دوچار کیا، میرا کردار بدلا، اور میری قوت فکر کو جلا دی۔ وہ میرے کالج کے ساتھی تھے، اور میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ انہی سے متاثر ہوا ہوں۔ " شبستان۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔

بوڑھے غیر مسلموں میں کتنے ہی ایسے ملیں گے جو اپنی زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ ذکر شخصیت کی حیثیت سے کسی مسلمان کا نام لیں گے، مگر اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ اب اس ملک کے مسلمان زندگی کی سرگرمیوں میں قائدانہ مقام سے ہٹ کر پیچھے کی صفوں میں جا چکے ہیں۔ اس فرق کی وجہ کوئی ظلم یا تعصب نہیں ہے؛ اس کی وجہ تمام تر اقتصادی ہے۔ قدیم ہندوستان کی اقتصادی بنیاد زراعت پر قائم تھی۔

اس زمانے میں مسلمانوں کے قبضے میں بڑی بڑی زمین داریاں تھیں۔ یہ صورتحال ان کو نہ صرف حوصلہ اور اعتماد دیتی تھی، بلکہ وہ مالی قیمت بھی ادا کرتی تھی جو کسی شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ قدیم زمین دار خاندانوں ہی سے عام طور پر وہ لوگ نکلتے تھے جو علم و عمل کے مختلف شعبوں میں ترقی کرتے تھے۔ آزادی کے بعد اقتصادیات کی بنیاد زمین کے بجائے صنعت و تجارت ہو گئی۔

مسلمان نئے اقتصادی نظام میں اپنی جگہ نہ بنا سکے، اس لیے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بھی پیچھے رہ گئے۔ گزرے ہوئے کل کو واپس لانے کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم چلانا، اپنی محرومی کی مدت کو مزید لمبا کرنا ہے۔ ہمارے لیے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ محنت اور لیاقت کے ذریعے اقتصادیات کی زمین کو دوبارہ حاصل کریں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آج کی دنیا میں ہم کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل ہو سکے۔

ترکی کی یہ تاریخ ایک انتہائی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلم ممالک کس طرح حالات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے، اور نتیجتاً وقت کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اسی کے ساتھ ترکی کی تاریخ میں دو اور علامتی مثالیں بھی ہیں: ملی کام کے لیے جاندار کارکنوں کا نہ ملنا، اور تیاری کے بغیر اقدامات۔ جدید ترکی میں دو شخصیتیں علمی و فکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں: ایک، نامخ کمال، 1840 تا 1888 عیسوی؛ دوسرے، ضیاء گوکلپ، 1875 تا 1924 عیسوی۔ دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرنچ زبانیں جانتے تھے۔

انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح، اگرچہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے، تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامخ کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، اور ترکی اتحاد کے بجائے اسلامی اتحاد کے الفاظ بولتے تھے۔ مزید یہ کہ نامخ کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالدہ ادیب خاتم نے ان کے بارے میں لکھا ہے: "نامخ کمال ترکی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔

ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی۔ " ہالڈی ایڈب، ٹرکی، فیسس ویسٹ، پیج 84۔ دوسری طرف، ضیاء گوکلپ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ اس کے فکری نظام میں اسلام بنیادی عامل کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔

اس نے دعوت دی کہ ترکی کی تعمیر نو خالص قومی اور مادی بنیادوں پر کی جائے۔ وہ اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کا پرجوش علمبردار تھا۔ ترکی کی بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ترکی میں نامخ کمال جیسے لوگوں کے افکار کو غلبہ نہیں ملا، بلکہ ضیاء گوکلپ جیسے لوگ عملاً وہاں کی سیاست و قیادت پر چھا گئے۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ضیاء گوکلپ کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کمال اتا ترک، 1881 تا 1924 عیسوی، جیسا طاقتور اور مضبوط ارادہ ارادے کا آدمی مل گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے: نامخ کمال نے اگرچہ اپنی قوم کے ایک طبقے میں محبوبیت حاصل کی، تاہم اپنے خطیبانہ ادب میں وہ جن خیالات کو پیش کر رہے تھے، ان کے اندر روایتی لوگوں کے لیے خواہ کتنی ہی اپیل ہو، جدید افکار کے عالمی سیلاب میں اس کی حیثیت ایک قسم کے رومانی خواب کی تھی۔ اصولی طور پر بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ اسلام کو اجتماعی اداروں کی بنیاد ہونا چاہیے، مگر ایک ایسی دنیا میں جہاں عملی طور پر سیکولر افکار کا غلبہ ہو، کوئی شخص اپنا علیحدہ جزیرہ تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب قوموں میں فکری فضا کو اس کے موافق بنا لیا جائے۔ کتاب "اسباق تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 412۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.