"انقلابی خوش خیالیاں" شیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی حکمرانوں سے شکایت تھی؛ انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک چلائی، مگر جب بنگلہ دیش آزاد ہو چکا اور وہ اپنے بنائے ہوئے ملک کے سربراہ اعلیٰ بن گئے، تو 15 اگست 1975 کو خود ان کے ہم وطنوں نے ان کو اور ان کے سارے خاندان کو قتل کروایا، قتل کر دیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں فوجی انقلابات کا سلسلہ چل پڑا۔ آخر 7 نومبر 1975 عیسوی کو کرنل ابو طاہر ایک خونی انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے۔ صدر ضیاء الرحمن اگرچہ اس وقت جیل میں تھے، مگر یہ انقلاب کرنل طاہر اور ضیاء الرحمن کے مشترکہ منصوبے کا نتیجہ تھا۔
چنانچہ انقلاب کے بعد ضیاء الرحمن تختِ اقتدار پر بٹھا دیے گئے۔ انقلاب سے پہلے ضیاء اور طاہر ایک دوسرے کے دوست تھے، مگر ضیاء الرحمن نے جب اقتدار حاصل کر لیا تو کرنل طاہر کا وجود ان کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ نظر آنے لگا۔ ضیاء الرحمن نے کرنل طاہر کو گرفتار کر لیا، ان پر خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا، اور بالآخر انہیں گولی مار دی گئی۔ ایک مصنف اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے یہ معنی خیز سوال اٹھاتا ہے: "Was his support to Zia a good revolutionary strategy or revolutionary romanticism that was born to misfir?
" کرنل طاہر کا ضیاء الرحمن کی مدد کرنا ایک اچھی انقلابی تدبیر تھی یا وہ ایک انقلابی تخیل پسندی تھی جس کے لیے یہی مقدر تھا کہ اس کا نشانہ خطا کر جائے؟ ہندوستان ٹائمز، 4 نومبر 1979 عیسوی۔ اس سوالیہ جملے کو مثبت جملہ بنا دیا جائے تو یہی موجودہ زمانے کے اکثر مسلم انقلابیوں کے منصوبے پر صادق آتا ہے: انہوں نے دوسرے عناصر کے ساتھ مل کر بڑے بڑے اقدامات کیے، حتیٰ کہ بعض اوقات پورے پورے ملک کو ہلا ڈالا۔ مگر ان کا انقلاب جب اپنے آخری نتیجے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس انقلاب کا سارا فائدہ دوسروں کے حصے میں چلا گیا۔
کامیابیوں کے ہجوم میں اس ناکامی کی واحد وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ انقلابی تدبیریں نہ تھیں بلکہ انقلابی خوش خیالیاں تھیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں، خواہ ان خوش خیالیوں کے مصنف ایسے لوگ ہوں جن کے معتقدین نے ان کو قائد اکبر اور مفکر اعظم کے خطابات دے رکھے ہوں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 388۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.