Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Un ka mukammal Inquilaab juzi Inquilaab bhi na ban saka

Urdu · 10 min

ان کا مکمل انقلاب جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا۔ جے پراکاش نارائن، 1902 تا 1979، اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے۔ ان کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا، اور ہر طریقے کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے۔ پٹنے میں ان کے مکان کے سونے کے کمرے میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا: "مالک تیری رضا رہے، اور تو ہی تو رہے؛ باقی نہ میں رہوں، نہ میری آرزو رہے۔

" وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے، اور اپنے الفاظ میں "سنپورن کراںتی" یعنی ٹوٹل ریولوشن کے علمبردار تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ ہندوستان کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کے لیے بے قرار ہیں، صرف اندر صرف اندرا حکومت راستے کی رکاوٹ ہے۔ اندرا حکومت ختم ہو جائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہو جائے گا۔ ان کو اپنے اس اندازے پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھنے لگے۔

اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع دیا، اور وہ 1977 عیسوی میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شاندار طور پر کامیاب ہو گئے۔ تاہم اس کامیابی کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار اندرا اور سنجے کے ہاتھ سے نکل کر مرارجی ڈیسائی اور کانتی ڈیسائی کے ہاتھ میں چلا جائے۔ مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنا رہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگرچہ ذاتی طور پر جے پراکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو "لوک نائیک" کا پُرفخر خطاب دیا گیا، تاہم اپنی تمام ظاہری کامیابیوں کے باوجود 8 اکتوبر 1979 عیسوی کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا مکمل انقلاب اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا۔

مزید یہ کہ جنتا پارٹی میں بہت جلد پھوٹ پڑ گئی، اور صرف 28 ماہ بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی۔ اپنی محبوب جنتا پارٹی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو ان کی زبان سے نکلا: "باغ اجڑ گیا"۔ ہندوستان ٹائمز، 20 جولائی 1979 عیسوی۔ آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہو گئے تھے کہ موت سے ایک دن پہلے اچھوت پٹور دھن ان سے پٹنہ میں ملے، اور ان کی خیریت پوچھی تو انہوں نے کہا: "میں کس طرح جی رہا ہوں، بس موت کا انتظار کر رہا ہوں۔

" ٹائمز آف انڈیا، 9 اکتوبر 1979۔ جے پراکاش نارائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ ایک عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی دوسری تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ایک مصلح جب ظالم حکومت کو ہٹانے کا نعرہ لگاتا ہے تو مشترک دشمنی کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال عناصر کو اکٹھا کر دیتا ہے۔ اس طرح مصلح کی جماعت اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہو کر اکثریت حاصل کر لیتی ہے۔

مگر جب ظالم حکومت ہٹ جاتی ہے تو سب کا مفاد الگ الگ ہو جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح کی جماعت اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ظالم کو ہٹا کر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بٹھا نہیں پاتی۔ جے پراکاش نارائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلحین کی شاندار کامیابی کے معا بعد، عبرت ناک ناکامی کا سبب یہی ہے۔

سوئی کے کارخانے میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً 20 مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کر سکے۔ اب اگر ایک جلد باز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنانا چاہے تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی، البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بیکار ہو جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ زمانے میں تعمیر ملت اور احیائے اسلام کی کوششوں کا ہوا ہے۔

100 سال سے بھی زیادہ مدت کے پرشور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ 100 سال پہلے تھا، بلکہ شاید کچھ اور پیچھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ چمک، ایک عمدہ چمکدار سوئی تیار کر لینا چاہتے ہیں۔ وہ 20 مرحلوں کے صبر آزما دور سے گزرنا نہیں چاہتے۔ انیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے دیکھا کہ مغربی قومیں مسلم ملکوں کے اوپر قابض ہو گئی ہیں۔

انہوں نے سمجھا کہ میں لڑ بھڑ کر کسی طرح ان اجنبی قوموں کو نکال دوں، اور اس کے بعد اسلام کی عظمت کا دور دوبارہ واپس آ جائے گا۔ بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد یہ مہم کامیاب ہو گئی، مگر اسلام اور مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے، وہیں اب بھی باقی رہے۔ کیونکہ جدید دنیا میں بالادستی کا مقام حاصل کرنے کے لیے بہت سی علمی و عملی تیاریوں کی ضرورت تھی، اور اس کے لیے ہمارے پرجوش لیڈروں نے کچھ نہیں کیا تھا۔ غیر مسلم اکثریت کے ملکوں میں لوگوں نے دیکھا کہ برسر اقتدار پارٹی کے زیر انتظام مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

انہوں نے سمجھا کہ ہماری تمام مصیبتوں کی جڑ بس یہ پارٹی ہے جس کے ہاتھ میں بروقت ملک کا اقتدار ہے۔ اگر اس پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو ہماری تمام مصیبتیں ختم ہو جائیں گی۔ الیکشن کے موقع پر دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر انہوں نے سیاسی طوفان مچایا، اور بالآخر برسر اقتدار پارٹی کو اقتدار سے ہٹا دیا۔ مگر اس کے بعد جو دوسری پارٹی منتخب ہو کر اقتدار کے منصب پر بیٹھی، اس کے تحت بدستور اسلام اور مسلمان ظلم کا شکار ہوتے رہے۔

کیونکہ نئی منتخب پارٹی بھی اسی غیر مسلم اکثریت کے افراد سے بنی تھی جس سے پہلی پارٹی بنی تھی۔ پھر وہ پہلی پارٹی سے مختلف کیوں ہوتی؟ یہی سیاسی ڈرامہ مسلم اکثریت کے ملکوں میں ایک اور شکل میں دہرایا گیا ہے۔ یہاں اسلامی مفکرین اور ملی قائدین نے دیکھا کہ جو مسلم شخصیت یا مسلم جماعت ان کے ملک میں حکومت کر رہی ہے، اس کے زیر حکومت بہت سی غیر اسلامی چیزیں رائج ہو رہی ہیں۔

انہوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو کسی طرح مار ڈالو یا اس جماعت کو اقتدار سے ہٹا دو، تو اس کے بعد ہر طرف نظام اسلام اور نظام مصطفیٰ کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہو گئی۔ سب سے بڑے مخالف اسلام کو ختم کر دیا گیا، مگر اس کے بعد دوسرا نظام آیا، وہ بھی پہلے ہی کی طرح غیر اسلامی نظام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے سماج سے نکل کر آتے ہیں، نہ کہ آسمان سے۔

اور جب سماج بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا۔ اس کے نتیجے میں قوم کے اندر حقیقت پسندی کے بجائے جذباتیت پیدا ہوتی ہے۔ تعمیری مزاج کے بجائے سیاسی مزاج بنتا ہے، پرامن طریقوں کے بجائے تخریبی طریقے پرورش پاتے ہیں، اور جو مقصد ہے وہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 385۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.