← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Islami Takhreeb kaari
Urdu · 4 min
اسلامی تخریب کاری۔ ایک خبر پڑھیے: نائجیریا کی احمد وبیرو یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میں عرصے سے شراب کی ایک کینٹین قائم تھی۔ یونیورسٹی کے اسلام پسند طلبہ اس کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر انتظامیہ اس کو نہیں مان رہی تھی۔ معاملہ اسی طرح ٹلتا رہا، یہاں تک کہ لڑکوں نے نوٹس دے دیا کہ شراب خانہ اگر ہال سے ہٹایا نہیں گیا تو وہ اس کو توڑ ڈالیں گے۔
یونیورسٹی کے حکام نے اس کے جواب میں کہا کہ جو لوگ ایسا کریں گے، ان کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طلبہ اور انتظامیہ کی یہ کشمکش بالآخر 5 مئی 1981 عیسوی کو بھڑک اٹھی۔ طلبہ نے دھاوا بول کر شراب خانے کو توڑ دیا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے اسی تخریبی کارروائی میں ملوث 24 طلبہ کو گرفتار کر لیا۔
اس کے بعد اور آگ بھڑکی۔ طلبہ نے یونیورسٹی حکام کے غیر اخلاقی رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی کے در و دیوار کو اسلامی نعروں سے بھر دیا۔ اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے دو طالبات نے قومی ترانے میں شرکت سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے مطابق قومی ترانے میں خدا پرستی کے بجائے قوم پرستی کا ذکر ہے۔
اب حکومت نے مزید 37 طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ اس ہنگامہ آرائی میں ہزاروں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوا، اور مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ 7 اگست 1981 عیسوی۔ عرب کے لوگ شراب پیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سالوں تک ان کو سمجھاتے رہے، اور ان کے دل کو نرم کرتے رہے، تاکہ وہ شراب کی برائی کو سمجھ جائیں اور خود اپنے ہاتھ سے شراب کے مٹکے توڑ ڈالیں۔ آج ان کے ماننے والے ان کے نام پر تخریب کاری کے ذریعے شراب کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ اس کھلے ہوئے تضاد کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عین اسلام پر عمل کر رہے ہیں۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ شراب پینے والوں کے پاس ایک دن بھی اس جذبے سے نہیں گئے کہ ان کو دل سوزی اور خیرخواہی کے انداز میں سمجھائیں۔
ان کی ایک رات کی نیند بھی ان کے حق میں دعائیں کرنے میں خراب نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ فی الواقع اپنے بھائیوں کی گمراہی پر تڑپ رہے ہیں، اور ان کے برے انجام کے غم میں ان کا یہ حال ہو رہا ہے، گویا کہ وہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے۔ ان کا سارا شوق بس یہ ہے کہ لوگوں کے اوپر خدائی فوج دار بن کر کھڑے ہو جائیں۔ وہ خدا کی نظر میں داعی اور مصلح بننا چاہتے ہیں، حالانکہ انہوں نے ایک دن بھی دعوت اور اصلاح کا عمل نہیں کیا۔
اس قسم کی اسلامی تخریب کاری آج بہت بڑے پیمانے پر مسلم دنیا میں جاری ہے، مگر ان چیزوں کا کوئی بھی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ سراسر لیڈری ہے۔ کچھ لوگ اس نام پر لیڈری کے ہنگامے برپا کیے ہوئے ہیں، اور کچھ لوگ اسلام پر۔ کچھ لوگ ایک عنوان پر اپنے حریف کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں، اور کچھ دوسرے عنوان پر۔
جو لوگ اس تخریبی سیاست میں مصروف ہیں، وہ بلاشبہ مجرم ہیں، اور جو لوگ اس تخریب کاری کے حق میں اسلامی جواز پیش کر رہے ہیں، وہ مجرموں کے لیڈر ہیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 383۔