← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Islam ke naam par Islam ka Qatl
Urdu · 11 min
اسلام کے نام پر اسلام کا قتل۔ پوروا کارتا، انڈونیشیا کے مسلم اسکول میں طالب علموں نے ایک تصویری پوسٹ کارڈ چھپوایا۔ اس میں ایران کے مذہبی قائد آیت اللہ خمینی کی تصویر تھی۔ پوسٹ کارڈ کی تقسیم سے پہلے حکومت کو اس کی خبر ہو گئی، اور انڈونیشی پولیس نے تمام پوسٹ کارڈ ضبط کر لیے۔
ٹائمز آف انڈیا، 21 فروری 1979 عیسوی۔ اس قسم کی خبریں دوسرے مسلم ملکوں سے بھی مل رہی ہیں۔ مسلم حکمران خمینی کے زیرِ اثر قائم شدہ ایرانی اسلامی حکومت کو، اگرچہ سرکاری طور پر مبارکباد کے تار بھیج رہے ہیں، مگر خود اپنے ملک میں خمینی افکار کی درآمد کو وہ سخت ناپسند کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بظاہر کامیاب اسلامی تحریک عملاً الٹا اثر پیدا کر رہی ہے۔
وہ اسلام کی کامیابی کے نعروں کے جل میں، اسلام کے لیے کام کرنے کے مواقع کو برباد کر رہی ہے۔ پاکستان، ایران اور بعض دوسرے ملکوں میں مسلم رہنماؤں نے اپنے سیاسی عزائم کے لیے "اسلامی حکومت" کے لفظ کو ایک کامیاب عوامی نعرہ پایا ہے۔ مگر اسلام کو سیاسی نعرہ بنانا، اسلام کو اسلام کے نام پر قتل کرنا ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی مسلم ملک اپنے معاشرتی حالات کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ اسلامی حکومت کے قیام کی زمین بن سکے۔
مزید یہ کہ جو لیڈر اس قسم کی تحریک چلا رہے ہیں، وہ خود بھی اسلامی قیادت کے اوصاف سے بالکل خالی ہیں۔ ایسی حالت میں اسلامی حکومت کا نعرہ صرف تخریبی کارروائیوں کے لیے ایک کامیاب ہتھیار بن سکتا ہے۔ وہ کسی بھی درجے میں کوئی تعمیر نتیجہ، کوئی تعمیری نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تحریکوں کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اسلام کا لفظ مسلم حکمرانوں کے لیے اسی طرح سیاسی خطرے کے ہم معنی بنتا جا رہا ہے، جس طرح مثال کے طور پر کمیونزم کا لفظ امریکی حکمرانوں کے لیے بنا ہوا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں اسلام کے نام پر کوئی دیرپا کام کرنا دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین اگرچہ اسلام کے نعرے پر اٹھے ہیں، مگر وہ جس زمین پر کھڑے ہوئے ہیں وہ سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین ہے، نہ کہ حقیقتاً اسلام کی طلب کی زمین۔ آزادی اور جمہوریت اور سوشلزم کے علم بردار جس عوامی بے چینی کو استعمال کر کے اپنی سیاسی تحریکیں چلا رہے ہیں، اسی بے چینی کو مسلم قائدین اسلام کے نام پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے زیادہ اس قسم کی تحریکوں کی کوئی حقیقت نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مفروضہ غیر اسلامی حکومت کو اکھاڑنے کے بعد جب مطلوبہ اسلامی حکومت بنانے کا سوال ہوتا ہے تو قائدین اور ان کا ساتھ دینے والی بھیڑ دونوں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو مادی سیاسی تحریکیں اٹھیں، انہوں نے ہر ملک میں عوام دشمن حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا، مگر وہ حقیقی عوامی حکومت قائم نہ کر سکے۔ یہی انجام اسلامی تحریکوں کے لیے بھی مقدر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صالح دینی نظام قائم کر سکتی ہے جو دینی محرکات کے تحت اٹھی ہو۔
سیاسی اور معاشی بے چینی کی زمین سے ابھرنے والی تحریکیں صرف نیا فساد برپا کریں گی۔ وہ ہرگز کوئی صالح نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔ منفی بنیادوں پر جو اتحاد پیدا ہو، وہ ہمیشہ انتشار پر ختم ہوتا ہے۔ اور مخالفانہ قسم کا سیاسی شور و شر بالآخر بدترین بے عملی پر۔
ایران کے واقعات میں جن لوگوں کو اسلام کا سورج ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، بہت جلد وہ دیکھ لیں گے کہ ان کی یہ رائے سطح، ان کی یہ رائے سطح خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ 22 فروری 1979 عیسوی۔ موجودہ زمانے میں بعض مسلم حکمرانوں نے اپنی حکومت کے استحکام کی یہ آسان تدبیر دریافت کی ہے کہ اسلام کے نام پر کوڑے مارو اور خوفناک سزائیں جاری کرو، تاکہ عوام اور انقلاب پسند عناصر سہم جائیں اور ان کی آمریت کے خلاف اٹھنے کی ہمت نہ کریں۔ قدیم زمانے میں بادشاہوں کو ایسے علماء مل جاتے۔
قدیم زمانے میں بادشاہوں کو ایسے علماء مل جاتے تھے جو ان کی ہوسناکی کے منصوبوں کے لیے شرعی سند عطا کرتے رہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے ان حکمرانوں کی خوش قسمتی سے ان کو ایسے افراد اور ادارے مل گئے ہیں جو ان کے تاریک منصوبوں کے حق میں یہ فتویٰ دے سکیں کہ یہی اسلام کا اصل مطلوب ہے، صرف اس قیمت میں کہ ان کو کچھ نذرانے اور اعزازی عہدے حاصل ہو جائیں۔ مگر اسلام کوڑے مارنے اور ہولناک سزائیں جاری کرنے کا نام نہیں۔ اس قسم کی حدود اور تعزیرات اسلام کے پورے بامعنی وجود سے بس اتنی ہی نسبت رکھتے ہیں جیسے ایک زندہ انسان کا اپنے بڑے ہوئے، اپنے بڑھے ہوئے ناخن کو کاٹنا۔
اسلام خدا کی رحمتوں کا دین ہے۔ وہ جنتی فضاؤں کا دنیاوی ظہور ہے۔ وہ موت کے بعد آنے والی دنیا کا موت سے پہلے والی دنیا میں مظاہرہ ہے۔ یہ جنت کے شہریوں کا دنیا میں اتر آنا ہے۔
وہ ملکوتی اوصاف جو کسی بندے خدا کو جنت کی ناقابلِ بیان خوشیوں کا مستحق بناتے ہیں۔ جب ایسے اوصاف کے لوگ اقتدار کے مناصب پر قبضہ پا لیں تو اسی کا دوسرا نام اسلامی نظام ہے۔ اسلامی نظام وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو آسمانوں والے خدا کو زمین پر کھڑا ہوا دیکھتے ہیں، جو اپنے آپ کو خدائی منصوبے میں اس حد تک گم کر چکے ہوں کہ اپنی ذات کے منصوبے ان کے لیے باقی نہ رہیں۔ اسلامی نظام برپا کرنے والے وہ ہیں جو دوسرے کے درد پر تڑپتے ہوں، جو دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہوں، جن کا حال یہ ہو کہ ذمہ داریوں کا احساس ان سے زندگی کی خوشیاں چھین لے۔
اللہ کے سامنے جواب دہی کا فکر ان کے لیے اقتدار کی کرسی کو کانٹوں کی کرسی بنا دے۔ جو حکومتی مواقع کے ملنے پر آنسو بہانے والے ہوں، نہ کہ قہقہہ بلند کرنے والے۔ زمین کے اوپر جب ایک درخت کھڑا ہوتا ہے اور اپنی سرسبز ٹہنیوں میں پھول اور پھل لگاتا ہے، تو یہ ایک پیچیدہ ترین کائناتی منصوبے کی تکمیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام گویا انسانی سماج میں خدا کا شرعی پھول اور پھل اگانا ہے۔
یہ ایک انتہائی لطیف اور انتہائی مشکل منصوبہ ہے۔ جس طرح ایک درخت طویل مدت تک خاموش عمل میں مصروف رہنے کے بعد اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے ہریالے، وہ اپنے ہریالے تنے کے اوپر رنگ اور مزہ اور خوشبو کا وہ فرحت بخش مجموعہ ظہور میں لائے جس کو پھول اور پھل کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلامی نظام کا قیام بھی ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد طویل منصوبہ ہے۔ یہ نہایت گہری جدوجہد کا طالب ہے۔
کچھ زندگیاں درخت کے بیچ کی مانند اپنے آپ کو عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتی ہیں۔ کچھ روحیں عالمِ حقائق میں گم ہو کر خدا کے چھپے ہوئے خزانوں کو اجتماعی سطح پر بکھرتی ہیں۔ تو اس کے بعد وہ واقعہ رونما ہوتا ہے جس کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ جو جیتے جی اپنے آپ کو آخرت میں پہنچا چکے ہوں، جب وہ آخرت کی ابدی تجلیوں کو دنیا میں اتارتے ہیں تو اسی انعکاسِ نور کا نام اسلامی نظام ہوتا ہے۔
اسلامی نظام خدا کی اخروی نعمتوں کا زمینی ظہور ہے۔ جو لوگ اپنی جاہ طلبی کے تماشوں کو اسلامی نظام کا نام دیتے ہیں، ایسے لوگ اسلامی نظام قائم کرنے کا کریڈٹ تو کیا پائیں گے۔ البتہ یہ اندیشہ ہے کہ خدا کے یہاں وہ دھوکہ بازی کے مجرم قرار دیے جائیں، کیونکہ انہوں نے اپنے ٹھنڈ کو خدا کا سرسبز و شاداب درخت کہنے کی جسارت کی تھی۔ 4 اپریل 1979 عیسوی۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 380۔