Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Zuhur-e-Aayaat ka Maqaam

Urdu · 10 min

ظہورِ آیات کا مقام: محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے، آپ کے بعد پچھلے انبیاء کی نبوتیں عملی طور پر منسوخ ہو گئیں؛ اب صرف آپ کی نبوت خدا کی نظر میں مستند نبوت ہے، اور صرف آپ کی پیروی سے کسی کو نجات مل سکتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام کے ظہور کے ذریعے اللہ نے یہ چاہا کہ وہ اپنے اس فیصلے کا ایک حسی مظاہرہ یا علامتی نمونہ دکھائے؛ چنانچہ اس کے لیے معراج میں یہ کیا گیا کہ سابقہ انبیاء کو ایک مقام پر جمع کیا گیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کی ہدایت پر ان کی امامت فرمائی، اور تمام انبیاء نے آپ کی قیادت میں آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ وقد رأيتني في جماعة من الأنبياء فحانت الصلاة فأممتهم. صحیح مسلم، حدیث نمبر 172۔

امامتِ انبیاء کا یہ واقعہ کعبہ یعنی عرب میں بھی ہو سکتا تھا، مگر اس کے لیے معراج ہوئی اور آپ کو بیت المقدس یعنی فلسطین لے جایا گیا؛ اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے: "تاکہ ہم پیغمبر کو اپنی نشانیاں دکھائیں"۔ لنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا. الاسراء، سورہ نمبر 17، آیت 1۔ بیت المقدس تاریخی طور پر وہ مقام بن چکا تھا جہاں امتِ یہود کے سلسلے کی خدائی نشانیاں پچھلے ہزاروں سال سے ظاہر ہو رہی تھیں۔

اب معراج کے موقع پر خود نبی آخرالزماں کو خدائی نشانی دکھانے کے لیے وہاں لے جانا ظاہر کرتا ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی وراثت اب آپ کی امت کو دے دی گئی۔ پھر جب بیت المقدس مسلمانوں کے حصے میں آیا تو اس کی وہ دینی اور آیاتی حیثیت بھی انہی کی طرف لوٹ آئے گی جو قدیم انبیاء کے زمانے میں انہیں حاصل تھی۔ بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر جب خدا کی رحمت ہوئی تو وہ فلسطین میں فارغ البال اور ذی اقتدار بنا دیے جاتے، اور جب ان پر خدا کا عتاب ہوتا تو فلسطین ان سے چھن جاتا اور وہ سخت مصیبتوں کی زد میں آ جاتے۔ فلسطین جب بنی اسرائیل کے مرحوم یا معطوب ہونے کی علامت تھی، یہی معاملہ خدا کا اب مسلمانوں کے ساتھ ہے: فلسطین مسلمانوں کے حق میں حکمِ خداوندی کی علامت ہے۔

اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل ہو اور وہاں وہ امن کی زندگی بسر کر رہے ہوں تو سمجھنا چاہیے کہ خدا ان سے خوش ہے۔ اور اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عتابِ خداوندی کی زد میں آ گئے ہیں۔ احبار، باب 26، استثنیٰ، باب 28۔ نبی آخرالزماں کے ظہور کے بعد بیت المقدس اور کعبہ دونوں کی وراثت آپ کی امت کو دی جا چکی ہے۔

اس اعتبار سے امت مسلمہ کے بارے میں مرحومیت یا معطوبیت کا اظہار کعبے کی سطح پر بھی ہو سکتا تھا، مگر کعبہ دینِ محفوظ کا قبلہ اور اس کا قیامت تک کے لیے مرکز ہے؛ اس لیے اس کو تخریبی فتنوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔ کعبہ محفوظ نہ رہے تو دین کی محفوظیت بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس بنا پر ضروری ہوا کہ امت مسلم کے بارے میں آیاتِ رحمت یا آیاتِ غیر رحمت کے ظہور کے لیے بیت المقدس کو بدستور اپنی سابقہ حیثیت پر باقی رکھا جائے۔ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سمجھنا خدا کی سنت سے بے خبری کا ثبوت ہے۔

یہ دراصل خدا کا وہ معاملہ ہے جو وہ حاملینِ کتاب کے ساتھ اس وقت کرتا ہے جبکہ وہ حاملِ کتاب ہونے کی ذمہ داری کو ادا نہ کر رہے ہوں۔ پہلے یہود کتابِ الہی کے حامل تھے، اس لیے پچھلے زمانے میں یہود کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہا۔ اب مسلمان کتابِ الہی کے حامل ہیں، اس لیے اب خدا کا وہ معاملہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہوگا جو پہلے فلسطین کے یہود کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ پھر یہ کام یہود سے کیوں لیا جا رہا ہے، اس کی خاص مصلحت ہے۔

یہود کا فلسطین میں جمع ہونا اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو ذلت کی سزا دینا بیک وقت دو مقاصد کا حامل ہے۔ ایک طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو ایک مقام پر جمع کر کے بالآخر انہیں کوئی سخت اجتماعی سزا دی جانے والی ہے، دوسری طرف ایک مغضوب قوم کے ذریعے مسلمانوں کو سزا دینا اس شدتِ عتاب کو بتا رہا ہے جس کا مورد اس وقت مسلمان بن رہے ہیں اور اس وقت تک بنتے رہیں گے جب تک وہ دوبارہ اپنے آپ کو کتابِ الہی کی بنیاد پر کھڑا نہ کریں۔ آج تمام دنیا کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت پر متحد ہیں، شاید عالمِ اسلام کا دوسرا کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جس پر ان کے درمیان اتنا زیادہ اتفاق پایا جاتا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین کے مسئلے کو اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔

مسلمانوں کے تمام اساغر و اکابر اس معاملے میں یکساں طور پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں، اور مجاہدینِ فلسطین کے نام اپنے حمایتی الفاظ نشر کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح فلسطین کا مسئلہ عملاً تمام دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی عزت تمام مسلمانوں کی عزت ہے، اور فلسطینی مسلمانوں کی بے عزتی تمام مسلمانوں کی بے عزتی۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی عمومی حمایت کسی بھی درجے میں فلسطینیوں کے مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہو رہی ہے۔

فلسطینی مسئلہ دن بدن سخت سے سخت تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ کسی اور مقام پر پیدا ہوا ہے، اور مسلمان اس کا حل کسی اور مقام پر تلاش کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ امریکہ اور اسرائیل کی سطح پر نہیں ہے، بلکہ خدا کی کتاب کی سطح پر ہے۔

اگر یہ امریکہ کا مسئلہ ہوتا تو ہم اس کو اسی طرح حل کر چکے ہوتے جس طرح ویتنام نے اس کو بہت پہلے حل کر لیا۔ خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے، اور خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی کو ختم کر کے ہی یہ مسئلہ دوبارہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ مزید اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان جو کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے، وہی وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو ان سے مطلوب ہو یا جو کتابِ الہی کی اقامت کے ہم معنی ہو۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں اتنی بڑی بڑی اسلامی شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں، اور اتنے بڑے پیمانے پر اسلامی کام ہو رہے ہیں کہ اگر یہی وہ چیز ہوتی جو خدا کو مطلوب ہو تو کبھی ممکن نہ تھا کہ مسلمان عتابِ خداوندی کی زد میں آئیں۔

کیونکہ یہ سب کام مقدار میں اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ صحیح اور مطلوب ہوں تو ان پر نصرتِ خداوندی کا نزول ہونا چاہیے، نہ کہ عتابِ خداوندی کا۔ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر آج تمام دنیا کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ خدا اگر انہیں رد کر دے تو پھر ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں۔ غیر مطلوب سرگرمیاں، خواہ وہ دین کے نام پر کی جا رہی ہوں، کسی کو خدا کی نظر میں رحمت و نصرت کا مستحق نہیں بناتیں۔

کتاب اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 376۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.