← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Aah ye be shuoori
Urdu · 9 min
آہ، یہ بے شعوری۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ایک مارکسی پروفیسر پر یونیورسٹی کے کچھ مسلمان لڑکوں نے حملہ کیا۔ اس کے بعد دہلی کا ایک اخباری رپورٹر علی گڑھ پہنچا، اور اس نے مذکورہ مارکسی پروفیسر کا انٹرویو لیا، جو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس 13 جنوری 1981 عیسوی میں چھپا۔ اس انٹرویو میں مذکورہ پروفیسر نے یونیورسٹی کے اندرونی نظام کی بعض خرابیوں کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہاں ہنگامہ پسند لڑکوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور تعلیمی معیار مسلسل گر رہا ہے۔
یہ انٹرویو چھپا تو یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ مشتعل ہو گئے، اور یونیورسٹی کیمپس میں توڑ پھوڑ اور ادھم بازی شروع کر دی، حالانکہ ان کا پرتشدد ردعمل صرف یہ ثابت کر رہا تھا کہ پروفیسر کا یہ کہنا صحیح ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر موجود ہیں۔ مسلم صحافت اور قیادت نے حسبِ معمول اس معاملے میں طلبہ کا ساتھ دیا۔ مسلم اخبارات نے اس انٹرویو کو انتہائی قابلِ اعتراض، 16 مئی 1981 عیسوی، قرار دے کر اس کے خلاف پرشور مضامین لکھے، مگر اردو یا انگریزی کے کسی بھی اسلام پسند اخبار نے انٹرویو کے اصل الفاظ شائع نہیں کیے۔ جن لوگوں نے اصل انٹرویو کو انڈین ایکسپریس میں پڑھا ہے، وہ اتفاق کریں گے کہ اس یکطرفہ لفظی طوفان کی وجہ یہ تھی کہ اگر یہ مسلم اخبارات اصل انٹرویو شائع کر دیتے تو قارئین پر یہ حقیقت کھل جاتی کہ وہ یقینی طور پر انتہائی قابلِ اعتراض نہیں تھا، وہ بس ایسا ہی تھا کہ یا تو اس کو نظرانداز کر دیا جاتا یا اس کے جواب میں ایک وضاحتی مضمون مرتب کر کے شائع کر دیا جاتا۔
یہ ہے ہماری وہ غیر عادلانہ سیاست، جس پر ہم یقین کیے بیٹھے ہیں کہ خدائے عادل ہمارے اوپر اپنی نصرتوں کی بارش برسائے گا۔ اس قسم کے لایعنی ہنگاموں کا فائدہ کچھ بھی نہیں، مگر ان کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر علی گڑھ کے طلبہ یہ ہنگامے، جو اسلام کے نام پر کیے گئے، ان پر دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے 3 قسطوں میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ مسٹر جے ڈی سنگھ نے اپنی اس رپورٹ میں جو باتیں کہی ہیں، ان میں سے ایک بات ان کے الفاظ میں یہ ہے: "Why do the AMU students raise the cry of 'Islam in danger' at the slightest pretext?
Is Islam, which has withstood major gun slots on it in the past, become so fragile as to be seen to crumble before a mere newspaper article by a Marxist? " ایسا کیوں ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ انتہائی معمولی باتوں کو لے کر 'اسلام خطرے میں' کی چیخ پکار بلند کرنے لگتے ہیں؟ اسلام، جو ماضی میں اپنے اوپر بڑے بڑے حملوں کے مقابلے میں قائم رہا، کیا اب اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ایک اخبار میں کسی مارکسسٹ کا محض ایک مضمون چھپ جانے سے وہ منہدم ہوتا ہوا نظر آنے لگے؟ ٹائمز آف انڈیا، 20 مئی 1981۔
اس سے اندازہ کیجیے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے علمبردار کس طرح اسلام کے نادان دوست ثابت ہوئے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جس میں ان تمام سرگرمیوں کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے جو ہمارے یہاں ملت کے نام پر جاری ہیں۔ نیز اسی مثال سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملی سرگرمیاں اپنی ساری دھوم کے باوجود اس قدر ناکام کیوں ہیں۔ نمبر 1: مسلم یونیورسٹی کا ایجیٹیشن پروفیسر عرفان حبیب کے ایک انٹرویو کے نام پر شروع کیا گیا۔
اس ایجیٹیشن میں حصہ لینے اور اس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ مگر آپ جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یونیورسٹی کے اندر اور یونیورسٹی کے باہر بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس انٹرویو کو انگریزی میں مکمل طور پر پڑھا ہے۔ زیادہ تر لوگ بس سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر اس کے خلاف مجاہد بنے ہوئے ہیں۔ یہ قرآن کے اس حکم کے خلاف، یہ قرآن کے اس حکم کی کھلی ہوئی خلاف ورزی ہے کہ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَئٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَاهَالَةٍ فَتُسْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ سورہ نمبر 49 آیت 6۔
یعنی: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر اپنے کیے پر تم کو پچھتاوا ہو۔ نمبر 2: پروفیسر موصوف نے جو کچھ کیا تھا، وہ صرف ایک اخباری مضمون کی اشاعت تھی، مگر اس کے جواب میں جو کچھ کیا گیا، وہ مارپیٹ، ہنگامہ اور توڑ پھوڑ تھا۔ یہ بھی قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی تھی کہ وَالَّذِينَ إِذَا صَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُونَ وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا سورہ نمبر 42 آیت 40 تا 41۔
یعنی: اور وہ لوگ کہ جب ان پر چڑھائی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں، اور برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی۔ نمبر 3: پروفیسر موصوف کا انٹرویو یونیورسٹی کے نظم و نسق کے بارے میں تھا۔ اس اعتبار سے یہ ایک عام بات، ایک عام تعلیمی بات تھی، مگر اس کو غلط طور پر اسلام اور کفر کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ یہ اپنی دنیاوی سیاست کے لیے دین کا نعرہ استعمال کرنا تھا۔
اس اعتبار سے یہ قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی تھی جس میں کہا گیا ہے: وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا سورہ نمبر 2 آیت 41۔ یعنی: اور میری آیتوں پر تھوڑی پونجی نہ خریدو۔ نمبر 4: پروفیسر موصوف نے جو بات کہی تھی، وہ یہ تھی کہ یونیورسٹی میں انتظام اور تعلیم کا معیار بہت گر گیا ہے۔ اس کا صحیح جواب یہ تھا کہ خاموش تعمیری جدوجہد کے ذریعے انتظام اور تعلیم کے معیار کو بلند کر دیا جاتا۔
یہ مذکورہ بیان کی نہایت کامیاب تردید ہوتی۔ اس کے برعکس شور و غل اور ہنگامہ بازی شروع کر دی گئی۔ یہ قرآن کے الفاظ میں ایسے کام کا کریڈٹ لینا تھا جس کو آدمی نے کیا نہیں۔ یہ حضرات اپنے آپ کو یونیورسٹی کے خادم کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے، حالانکہ یونیورسٹی کو، حالانکہ یونیورسٹی کی جو اصل خدمت تھی، اس کو انہوں نے انجام ہی نہیں دیا۔
ایسے لوگوں کو قرآن کے اس انتباہ سے ڈرنا چاہیے۔ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْتُ وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورہ نمبر 3 آیت 188۔ یعنی: جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف ہو، تو ان کو تم عذاب سے بچاؤ۔ تو انہوں نے جو کچھ نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف ہو، تو ان کو تم عذاب سے بچاؤ، عذاب سے بچاؤ میں نہ سمجھو، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 367۔