← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Wo Mawaqey jo Istemaal na ho sakey
Urdu · 11 min
وہ مواقع جو استعمال نہ ہو سکے۔ فریڈرک ٹوکر۔ فریڈرک ٹوکر، 1853 تا 1929 عیسوی۔ ایک انگریز آئی سی ایس تھا، وہ کمشنر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا کہ اس کے اندر مذہبی اور روحانی جذبہ پیدا ہوا۔
اس نے 1881 عیسوی میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ انگلستان میں اس وقت جنرل ولیم بوتھ کے تحت سالویشن آرمی، یعنی نجات دہندہ فوج، کی تحریک چل رہی تھی۔ اس نے جنرل بوتھ کو آمادہ کیا کہ اس تحریک کی ایک شاخ ہندوستان میں قائم کی جائے۔ چنانچہ 19 ستمبر 1882 کو اس کی پہلی شاخ بمبئی میں قائم ہوئی۔
فریڈرک ٹوکر نے اپنا نام فقیر سنگھ رکھ لیا۔ وہ پنجاب کے دیہاتوں میں ننگے پاؤں گھومتا اور لوگوں کو روزگار پر لگانے کی کوشش کرتا۔ اس نے دیہی بینک قائم کیے، گھریلو صنعتیں رائج کیں، اور کالونیاں بنائیں وغیرہ۔ ٹائمز آف انڈیا، 11 مارچ 1979۔
استعمار کے زمانے میں اس طرح کے بہت سے انگریز تھے جن کی فطرت زندہ تھی اور جن کے اندر دینِ حق کا بیج ڈالا جا سکتا تھا، مگر تمام قائدین سیاسی ہنگاموں میں لگے رہے۔ خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کی ضرورت کسی کو محسوس نہ ہوئی۔ اس قسم کے لوگ اگر آخرت میں کہیں کہ خدایا، ہم حق کی تلاش میں تھے، مگر حق کے امانت داروں نے ہم کو حق سے آشنا نہیں کیا، وہ تو ہم سے صرف سیاسی لڑائی لڑتے رہے، تو- تو مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے قائدین کے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ ان یہ ان مواقع کی ایک مثال تھی جو انفرادی اعتبار سے ہمارے لیے پیدا ہوئے۔
حالیہ زمانے میں اسی قسم کے مواقع اجتماعی سطح پر بھی بار بار سامنے آئے، مگر مسلمان ان سے کوئی دعوتی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ خاندان ہپسبرگز۔ خاندان ہپسبرگز ایک زمانے میں اوسٹریا و ہنگری پر حکومت کرتا تھا۔ ترکی کے سلطان سلیمان اعظم 1520 تا 1566 عیسوی کے زمانے میں اس کے تخت پر شہنشاہ چارلس پنجم، چارلس ففتھ، حکمران تھا۔
اس وقت وہ یورپ کا سب سے بڑا فرمانروا تسلیم کیا جاتا تھا۔ یورپ کے نصف سے زیادہ حصے پر اس کی سلطنت پھیل چکی تھی۔ اس حکومت کے تعلقات فرانس سے اچھے نہ تھے۔ فرانس کی یہ کوشش تھی کہ اس وسیع سلطنت کو مغرب کی سمت بڑھنے سے روکے۔
اسی طرح مشرق میں عثمانی سلطنت۔ ہپسبرگ حکمرانوں کے لیے سدِ راہ بنی ہوئی تھی۔ فرانس نے محسوس کیا کہ وہ اور سلطنت عثمانیہ دونوں ہپسبرگ کے مشترک حریف ہیں۔ اس نے اپنے محاذ کو مضبوط کرنے کے لیے سلطنت عثمانیہ سے تعلقات بڑھانا چاہا۔
چنانچہ فرانس کی حکومت نے 1534 میں اپنے سفیر کو قسطنطنیہ بھیج کر خود ہی اس کی طرف پہل کی۔ دونوں میں اچھے سیاسی تعلقات قائم ہو گئے۔ ایک سال بعد، جب شاہ فرانس یعنی فرانسس ون اور شاہ چارلس پنجم میں جنگ چھڑی، تو فرانس نے سلطان سلیمان سے مدد کی درخواست کی۔ سلطان سلیمان نے اس جنگ میں نہ صرف فرانس کی فوجی مدد کی بلکہ اس سے دوستی اور تجارت کا معاہدہ بھی کر لیا۔
اس معاہدے کے مطابق فرانسیسیوں کو صرف 5 فیصد محصول کے معاوضے میں تمام ترکی بندرگاہوں سے تجارت کرنے کی اجازت ملی تھی۔ فرانسیسی تاجروں کے دیوانی و فوجداری مقدمات ان کے اپنے کونسل کے سپرد کر دیے گئے۔ ان کو ترکی میں پوری مذہبی آزادی حاصل تھی، اور ترکی میں واقع عیسائیوں کے مقامات مقدسہ کی نگرانی بھی ان کا حق تھا۔ اس دوستانہ معاہدے کی وجہ سے فرانس اور ترکی کے تعلقات تقریباً تین صدیوں تک بہت خوش خوشگوار رہے۔
ان تعلقات سے فرانس میں بہت بڑے پیمانے پر تبلیغ کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا، مگر اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کیا جا سکا۔ اسی طرح ترکی اور روس قدیم زمانے میں ایک دوسرے کے روایتی حریف تھے۔ اگست 1914 عیسوی میں جب یورپ کی عالمگیر جنگ چھڑی، تو ایک طرف روس، برطانیہ اور فرانس تھے جن کو اتحادی طاقتیں یعنی الیڈ پاورز، الیڈ پاورز کہا جاتا تھا۔ دوسری طرف جرمنی اور اٹلی وغیرہ تھے جن کو محوری طاقتیں یعنی ایکسس پاورز کہا جاتا تھا۔
مصطفی کمال اور بعض دوسرے لوگوں کی رائے تھی کہ ترکوں کو اس جنگ سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔ اس وقت ترکی کے اقتدار پر انور پاشاہ اور ان کے پرجوش ساتھیوں کا قبضہ تھا۔ انہوں نے روس اور برطانیہ کی دشمنی میں جرمنی کا ساتھ دیا۔ اس جنگ میں ترکوں کی شرکت نے اتحادیوں کے لیے سخت دشواریاں پیدا کر دیں۔
ترکوں ترکوں نے آبنائے باسفورس اور درہ دانیال کو دشمن کے جہازوں کے لیے بند کر دیا۔ اس کی وجہ سے برطانیہ اور فرانس کا تعلق روس سے منقطع ہو گیا۔ روس اس وقت ایک غیر صنعتی ملک تھا، اس لیے جب تک برطانیہ اور فرانس کے کارخانوں سے اس کو کافی مقدار میں سامان جنگ فراہم نہ ہوتا رہے، وہ جدید طرز کی جنگ کو کامیابی کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ تاہم ترکی کے لیے یہ پالیسی بہت مہنگی پڑی۔
جنگ میں جرمنی کو شکست ہوئی اور اس کے بعد ترکی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ قسطنطنیہ کے تخت پر اگرچہ برائے نام سلطان باقی رہا، مگر عملاً ترکی کے تمام معاملات اتحادیوں کے قبضے میں آ گئے۔ یہ سب کچھ ہوا، مگر جرمنی سے اتنے لمبے قریبی تعلق کے باوجود جرمنی میں تبلیغ اسلام کا کوئی کام نہ کیا جا سکا۔ اس قسم کے سیاسی اور اقتصادی اتحاد کی مثالیں مسلم حکومتوں کی تاریخ میں کثرت سے ملیں گی، مگر ایسی کوئی مثال نہیں جبکہ دعوت و تبلیغ کے مقصد کی خاطر کسی سے اتحاد کیا گیا ہو یا سیاسی اتحاد کے ذریعے پیدا شدہ حالات سے دعوتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہو۔
اگر دعوتی مزاج ہوتا تو اس قسم کے اتحاد سے غیر معمولی دعوتی فائدے حاصل کیے جا سکتے تھے، اور مسلمانوں کی تاریخ اس سے بالکل مختلف ہوتی جو آج ہمیں نظر آتی ہے۔ موجودہ زمانے میں انسانوں کے باہمی تعلقات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، مگر تعلقات میں اضافے کا یہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا کہ مسلمان نئے مواقع کو دوسرے لوگوں تک دین کا پیغام پہنچانے میں استعمال کرتے۔ انفرادی روابط اور قومی تعلقات دونوں ہی اس قسم کا کوئی فائدہ حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے اسلاف کا یہ حال تھا کہ وہ ربط و تعلق کے ہر موقع کو دعوت کے لیے استعمال کرتے تھے، مگر آج مسلمانوں کے لیے دوسری قومیں صرف دو باتوں کا موضوع بن کر رہ گئی ہیں: معاشی فائدہ حاصل کرنا یا سیاسی جھگڑے کھڑے کرنا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے، نہ کہ حقوق طلبی اور قومی محاذ آرائی کا۔ مسلمان اپنی لڑائی جھگڑے کی سیاست سے دوسری قوموں کو اسلام سے متوحش کرنے کا کام تو بہت بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں، مگر ان کو اسلام کے قریب لانے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 371۔