Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kaisi ajeeb Ghaflat

Urdu · 6 min

کیسی عجیب غفلت! مولانا عبیداللہ سندھی، 1872-1944 عیسوی، ایک نو مسلم تھے۔ وہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے، اور بچپن سے غیر معمولی ذہین تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام "عبیداللہ" اس لیے رکھا کہ وہ اس سلسلے میں سب سے پہلے جس کتاب سے متاثر ہوئے، وہ "تحفۃ الہند" تھی، جس کے مصنف کا نام عبیداللہ ہے۔

اس کتاب میں اسلام کا تقابل دوسرے مذاہب سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کتاب پڑھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سکھ مذہب اور ہندو دھرم سے غیر مطمئن ہو گئے۔ اس کتاب نے ان کے اندر اسلام کی طرف ابتدائی رجحان پیدا کر دیا۔ تاہم، ابھی وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔

بعد کو انہوں نے بتایا کہ "میں سوچتا تھا کہ اسلام بت پرستی کے خلاف ہے، مگر مسلمان اپنے بزرگوں کی قبروں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں، وہ بھی تو ایک طرح کی بت پرستی ہے۔ " یہ سوال ان کے لیے اسلام قبول کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اپنے دل کی یہ کھٹک انہوں نے کچھ مسلمانوں سے بیان کی۔ چنانچہ ایک مسلمان نے انہیں شاہ محمد اسماعیل شہید کی کتاب "تقویۃ الایمان" دی اور اس کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔

اس کتاب کا موضوع شرک کی مختلف صورتوں کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ انہوں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اسلام توحید خالص کا دین ہے۔ انہوں نے جانا کہ مسلمانوں کی قبر پرستی مسلمانوں کے اپنے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، وہ قبر پرستی کا بھی ویسا ہی مخالف ہے جیسا وہ بت پرستی کا مخالف ہے۔

ان دو کتابوں کا مطالعہ ان دو کتابوں کے مطالعے کے بعد ان کا نظریاتی سفر بڑی حد تک پورا ہو چکا تھا۔ تاہم، آبائی مذہب کو چھوڑ کر نئے مذہب کی طرف بڑھنے کے لیے جس طاقتور محرک کی ضرورت ہے، وہ ابھی ان کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ کام ایک اور کتاب کے مطالعے سے انجام پا گیا۔ یہ "احوال آخرت" تھی۔

اس کتاب میں قیامت کی ہولناکی اور جنت و دوزخ کی باتیں درج ہیں۔ پچھلی کتابوں کے مطالعے سے اگر ان کا دماغ ہلا تھا تو آخری کتاب کے مطالعے سے ان کا دل ہل گیا۔ اور انہوں نے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ یہ تینوں کتابیں جن کا ذکر ہوا، وہ اردو کتابیں ہیں۔

اس کا مطلب یہ کہ 50 سال یا 100 سال پہلے کے ہندوستان میں یہ ممکن تھا کہ اردو زبان کو غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ کیسا عجیب اور کیسا قیمتی امکان تھا، جس کو ہمارے تمام اساغر و اکابر نے بے فائدہ سیاست کی ہنگامہ آرائیوں میں کھو دیا۔ قانون قدرت کے مطابق اس کی سزا ہمیں یہ ملی ہے کہ اب غیر مسلموں میں دین پہنچانے کے لیے ہمیں کئی اجنبی زبانوں میں اسلامی لٹریچر فراہم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ اور اردو زبان کا یہ حال ہوا ہے کہ غیر مسلم تو درکنار، اب خود مسلم نسلوں تک بھی اس کے ذریعے دین کا پیغام پہنچانا ممکن نہیں۔

جو کام پہلے صرف ایک زبان کے ذریعے ہو سکتا تھا، اس کے لیے اب ہم کو کئی زبانوں کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کی جدوجہد کا کم از کم ایک نمایاں عنوان "اردو رہا" ہے۔ اردو کے خاتمے کا مرثیہ پڑھنا ہمارے تمام لیڈروں کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب آزادی ہند سے پہلے ملک کی سب سے زیادہ عام زبان اردو تھی، تو آزادی ہند کے بعد وہ یہاں اجنبی کیسے بن گئی۔

زبان ان چیزوں میں سے ہے جس کا تسلسل اگر تاریخ میں ایک بار قائم ہو جائے تو اس کو توڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تسلسل قائم ہونے کے بعد وہ خود اپنے زور پر قائم رہتی ہے۔ اس کے بعد کوئی بہت بڑا اجتماعی بھونچال ہی اس کو توڑ سکتا ہے۔ ورنہ عام حالات میں اس کا تسلسل تاریخ میں جاری رہے گا، وہ ختم نہیں ہو سکتا۔

ہندوستان میں اردو کے خاتمے کے واحد ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔ مسلمانوں نے اس ملک میں دو قومی سیاست چلائی اور اس کو اس اجتماعی بھونچال تک لے گئے جس کا دوسرا نام "تقسیم" ہے۔ تقسیم ملک کا بھونچال ہی تقسیم ملک کا بھونچال ہی دراصل وہ واقعہ ہے جس نے اردو کے تسلسل کو ہندوستان میں ختم کر دیا۔ اگر مسلمانوں کی احمقانہ سیاست سے یہ بھونچال پیش نہ آتا تو ناممکن تھا کہ اس ملک میں اردو کا اس طرح خاتمہ ہو جائے جو آج ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔

اس کی ایک مثال ہندوستان کی فلمی صنعت ہے۔ ہندوستانی فلموں کی دنیا میں اردو زبان آج بھی زندہ ہے، جبکہ ملک کے بقیہ حصے میں وہ موت سے دوچار ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فلم کی حیثیت ہر ملک میں اور اسی طرح ہندوستان میں بھی ایک جزیرے کی ہے۔ فلم کی دنیا عام طور پر سیاسیات اور قومی ہنگاموں سے الگ الگ زندہ رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی فلموں کے جزیرے میں اردو آج بھی پہلے کی طرح زندہ ہے، جبکہ بقیہ ملک میں وہ اپنی سابقہ حیثیت کھو چکی ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 365۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.