نظامِ تعلیم: چارلس ایڈمز ایک امریکی عیسائی تھے، انہوں نے مصر میں رہ کر وہاں کی اسلامی تحریکوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے "Islam and Modernism in Egypt"۔ اس کتاب میں ایک جگہ وہ جامعہ اظہر، قاہرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "روایت پرستی کی روح صدیوں سے جامعہ اظہر کی تعلیمی سرگرمیوں میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ " تعلیم کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ علمی تحقیق اور چھان بین کے ذریعے متعلقہ علوم کو ترقی دی جائے؛ تعلیم کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعے قدماء کا ذہنی سرمایہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہے۔
بیانیہی اسی حالت میں، جیسا کہ اسلاف نے، بیانیہی اسی حالت میں، جیسا کہ اسلاف نے، اپنے بعد والوں کو دیا تھا۔ آزادانہ تحقیق اور آزادانہ رائے قائم کرنے کا دروازہ اسلام میں تیسری صدی ہجری سے بند ہے۔ اس لیے مذہب کے مستند شارحین صرف دورِ ماضی میں ملتے ہیں، اور بعد والوں کے لیے صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے علمی سرمائے کی شرح کرتے رہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد مصر کی جامعہ اظہر میں کافی تبدیلیاں ہو چکی ہیں۔
مصنف کا تبصرہ اب اس پر صرف جزئی طور پر ہی صادق آتا ہے۔ تاہم ہندوستان اور دوسرے بہت سے ملکوں کے اسلامی مدارس کے لیے یہ الفاظ آج بھی پوری طرح درست ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اسلامی تعلیم کا معاملہ عام سیکولر تعلیم سے مختلف ہے۔ سیکولر تعلیم مطلق طور پر آزادانہ تحقیق کی قائل ہے، جبکہ اسلامی تعلیم کی بنیاد ہمیشہ قرآن و سنت پر ہوتی ہے۔
مگر ہمارے مدارس میں آج جو تعلیم دی جا رہی ہے، اس کے متعلق یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہیں، بلکہ ایک خاص دور میں پیدا ہونے والے کتاب و سنت کے شارحین پر ہے۔ کتابوں کی ایک خاص فہرست ہے جس کو مقدس مقام حاصل ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ اب قرآن و حدیث بھی انہی کتابوں کی روشنی میں پڑھائے جاتے ہیں، نہ کہ ان کتابوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھایا جائے۔ اس طرزِ تعلیم کا براہِ راست نتیجہ جمود اور تنگ نظری ہے۔
یہ جمود اور تنگ نظری آج مسلم قوم کا سب سے بڑا خلاصہ بن چکی ہے، اور ہم اس کے وہ تمام نتائج بھگت رہے ہیں جو ایسی ذہنیت سے لازماً پیدا ہوتے ہیں۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 363۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.