Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Khabar Ghalat thi

Urdu · 6 min

خبر غلط تھی۔ نیل آرم اسٹرانگ مشہور امریکی خلاباز ہیں، اور تاریخ کے پہلے انسان ہیں جنہوں نے 21 جولائی 1969 عیسوی کو چاند پر قدم رکھا۔ وہ اس سے پہلے امریکہ کے خلائی ادارہ ناسا سے متعلق تھا، اب اس سے الگ ہو کر وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ملیشیا کے اخبار اسٹار، 10 جنوری 1983 عیسوی، اور سری لنکا کے ڈیلی نیوز پیپر، 29 جنوری 1983 عیسوی میں ایک خبر چھپی جو بہت جلد دوسرے مسلم اخبارات میں نقل نقل ہو کر دنیا بھر میں پھیل گئی۔

یہاں ہم اسٹار کی خبر اور اس کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔ دنیا کے مشہور خلاباز آرم اسٹرانگ پہلے شخص ہیں جنہوں نے چاند پر قدم رکھا، وہ اس کے بعد سے مسلمان ہو گئے ہیں، اور وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب پہلی بار انہوں نے چاند پر قدم رکھا تو انہوں نے وہاں ایک آواز سنی جو ان کے لیے اور ان کے ساتھیوں کے لیے بہت صاف تھی۔ اس وقت ان کو خیال آیا کہ ان کے کانوں کو دھوکا ہو رہا ہے، کیونکہ اس وقت وہ چاند کو پہلی بار دیکھ رہے تھے اور ان پر ایک استعجاب کی کیفیت طاری تھی۔ بعد میں وہ مختلف ملکوں میں لیکچر دینے کے لیے گئے۔

اس دوران وہ قاہرہ، مصر میں بھی گئے۔ وہاں انہوں نے وہی آواز دوبارہ سنی جو انہوں نے چاند پر سنی تھی۔ انہوں نے اپنے قریب کے مصری ساتھی سے پوچھا کہ یہ آواز کیا ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ اذان ہے جو عبادت کی پکار ہے، اور اس میں خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔

آرم اسٹرانگ کو بہت تعجب ہوا کیونکہ یہ ان کے حافظے کے مطابق وہی آواز اور وہی الفاظ تھے جو انہوں نے چاند پر سنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اسلام کے متعلق جاننے کا فیصلہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی قابلِ رشک ملازمت کھو دی، مگر ان کا کہنا ہے کہ میں نے خدا کو پا لیا ہے اور اب کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ خبر دوسرے اخبارات میں نقل ہوئی تو اس میں مزید اضافے بھی کر دیے گئے، مثلاً یہ کہ آرم اسٹرانگ نے چاند کی آواز کو ٹیپ ریکارڈ کر لیا تھا اور زمین پر آ کر اذان کی آواز کو اس سے ملایا، وغیرہ۔

اس سلسلے میں راخیم الحروف نے ایک خط مسٹر آرم اسٹرانگ کو لکھا تھا۔ انہوں نے اس خبر کی تردید کی ہے اور اس کو بے بنیاد بتایا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے ذاتی دستخط سے جو جواب موصول ہوا ہے اس کا عکس علیحدہ صفحے پر دیا جا رہا ہے۔ آرم اسٹرانگ اپنے جواب میں لکھتے ہیں: "آپ کے خط کا شکریہ۔

میرے اسلام قبول کرنے کی خبریں، اذان کی آواز کو چاند پر، اور اس کے بعد قاہرہ میں سننا، سب خلافِ واقعہ ہیں۔ میں کبھی مصر نہیں گیا، ملیشیا، انڈونیشیا، اور دوسرے مقامات کے کچھ رسالوں اور اخبارات نے یہ خبریں بغیر تصدیق کیے ہوئے چھاپی ہیں۔ اس نااہل صحافت نے آپ کو جو بھی زحمت دی ہو، اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں۔ " خلوص کے ساتھ، آرم اسٹرانگ۔

خبر کے مطابق اس واقعے میں حکومتِ امریکہ بھی ملوث تھی، کیونکہ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسٹر آرم اسٹرانگ کی سرکاری ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔ اس بنا پر خود حکومتِ امریکہ نے بھی اس کی تردید کا اہتمام کیا۔ 12 مئی 1983 عیسوی کو نئی دہلی کے امریکن سینٹر میں ایک خصوصی ٹیلی پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں اخبارات کے نمائندوں کو موقع دیا گیا کہ وہ ٹیلی فون کے ذریعے براہِ راست آرم اسٹرانگ سے بات کریں۔

اس ٹیلی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امریکی خلاباز نے اپنے قبولِ اسلام کی تردید کی۔ ہندوستان ٹائمز، 13 مئی 1983 عیسوی۔ مزید انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کبھی ان کے سامنے نہیں آئیں اور نہ انہوں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے آرم اسٹرانگ اور ان جیسے دوسرے بندگان نے خدا کے سلسلے میں اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو تو پورا نہیں کیا، البتہ فرضی کہانیاں بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ چاند سے لے کر امریکی خلاباز تک سب کو ان کے دینِ اعظم نے فتح کر رکھا ہے۔

کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 361۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.