عبرت ناک۔ قاضی نذرالاسلام بنگلہ زبان کے مشہور شاعر تھے؛ ٹیگور 1861-1941 عیسوی کو جب نوبل انعام ملا تو نذرالاسلام نے ان کو مبارکباد کا خط بھیجا۔ اس کے جواب میں ٹیگور نے جو خط لکھا تھا، وہ ٹیگور کے مجموعہ مکاتب میں شامل ہے۔ اس میں ٹیگور نے نذرالاسلام کو لکھا: "نوبل انعام کے اصل مستحق تم تھے، میں نہیں۔
" نذرالاسلام نہایت پرجوش انقلابی شاعر تھے؛ وہ آزادی کی حمایت میں اور انگریزی استعمار کے خلاف شعلہ باز نظمیں لکھا کرتے تھے۔ اس سے نوجوانوں میں آزادی کے جذبات بھڑکتے تھے۔ چنانچہ انگریزی حکومت نے نذرالاسلام کو گرفتار کر کے رانچی کے جیل میں قید کر دیا۔ وہاں ان کو جس کمرے میں رکھا گیا، وہ قلم، سیاہی، اور کاغذ جیسی چیزوں سے بالکل خالی تھا۔
ان کے لیے بظاہر ناممکن بنا دیا گیا کہ وہ کچھ لکھ سکیں۔ قاضی نذرالاسلام کے دماغ میں آزادی کے ترانے ابلتے تھے، مگر وہ اپنے قید کے کمرے میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتے تھے جس سے وہ ان کو لکھ سکیں۔ بالآخر انہوں نے یہ کیا کہ شیو بنانے کے لیے بلیڈ سے اپنی انگلی کو زخمی کیا۔ شیو۔
بالآخر انہوں نے یہ کیا کہ شیو بنانے کے لیے بلیڈ سے اپنی انگلی کو زخمی کیا، جس کے نتیجے میں انگلی سے خون جاری ہو گیا۔ اب انہوں نے اپنی انگلی کو قلم بنایا اور خون کو روشنائی، اور پھر جیل کی دیواروں پر آزادی کے اشعار لکھ ڈالے۔ غالباً یہی واقعہ ہے جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے اپنا شعر کہا: "متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے، خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے۔ " موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے زبردست قربانیاں دی ہیں، مگر یہ تمام قربانیاں حقیقتاً قوم اور وطن اور سیاست کی راہ میں تھیں۔
اپنے سیاسی جذبات کے اظہار کے لیے انہوں نے اپنے خون کو روشنائی بنا ڈالا، اور قومی مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے اپنے جان و مال کو لٹا دیا۔ مگر پوری جدید تاریخ میں کوئی بھی قابلِ ذکر شخص نہیں ملتا جس نے دعوت کی راہ میں اپنے آپ کو ہلکان کیا ہو۔ مسلمان کا اصل مقصد اقوام عالم تک خدا کے پیغام کو پہنچانا ہے، مگر یہی وہ کام ہے جس کو موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ چھوڑ رکھا ہے۔ وہ سب کچھ کر، وہ سب کچھ کرتے ہیں، مگر اسی ایک کام کو نہیں کرتے۔
اس معاملے میں ان کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ وہ دوسرے دوسرے کاموں میں مشغول ہوتے ہیں اور ان کو دعوت کا نام دے دیتے ہیں۔ یہی واحد سب سے بڑی کوتاہی ہے جس کی بنا پر مسلمان موجودہ زمانے میں خدا کی نصرت کے مستحق نہ ہو سکے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 360۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.