غیر پختہ نوجوان ان کی تحریک کا سرمایہ تھے۔ انیسویں صدی کے ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جن لوگوں نے سیکولر قومی تحریک چلائی، وہ بعد کو انجمنِ اتحاد و ترقی کی صورت میں منظم ہو گئے۔ کمال اتاترک، 1881 تا 1938 عیسوی، اس کے لیڈر تھے۔ خالدہ ادیب خانم اس انجمن کے ارکان پر تبصرہ کرتی ہوئی لکھتی ہیں: "اتحاد و ترقی کے نوجوان ترک چھوٹے درجے کے سرکاری ملازم یا فوجی افسر تھے۔
" ابتدا میں ان میں ایک شخص بھی نہ تھا جو اعلیٰ قابلیت رکھتا ہو اور تحلیل و تنقید سے کام لے کر پرانے اور نئے زمانے کے فرق کو سمجھ سکے۔ مگر یہ لوگ جمہور سے زیادہ قریب تھے اور خالص دیسی پیداوار تھے۔ ان میں زیادہ تعداد مقدونیہ کے باشندوں کی تھی، جو واقعیت پسندی اور بے رحمی میں مشغول ہیں، بے رحمی میں مشہور ہیں، جو واقعیت پسندی اور بے رحمی میں مشہور ہیں، اور اپنے مقصد کے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش۔
خالدہ ادیب خانم نے جو بات ترکی کے بارے میں لکھی ہے، وہی موجودہ زمانے کی اکثر مسلم تحریکوں پر صادق آتی ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 358۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.