موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تاریخ۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تاریخ کا مشترک عنوان قائم کرنا ہو تو وہ صرف ایک ہوگا: بے فائدہ سیاست۔ صلاحیتیں جو سیاست کی نظر ہو گئیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کوششوں سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی پہلی عمارت بنی تو مولانا شبلی نے 1912 میں ایک بڑا جلسہ کیا، اور اس کی صدارت کے لیے سید رشید رضا مصری کو بلایا۔
رشید رضا نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔ تقریر کے ترجمے کے لیے پہلے سے کسی کو تیار نہیں کیا گیا تھا۔ آخر میں مولانا شبلی نے کھڑے ہو کر کہا کہ کون اس تقریر کا اردو ترجمہ کرے گا۔ مولانا ابوالکلام آزاد اس وقت ڈائس پر موجود تھے۔
انہوں نے ہاتھ اٹھایا۔ مولانا شبلی نے یہ خدمت ان کے سپرد کی۔ مولانا آزاد نے ڈھائی گھنٹے کی اس عربی تقریر کا ترجمہ ڈھائی گھنٹے میں کیا۔ ان کے حافظے نے ٹیپ ریکارڈ کی طرح پوری تقریر کو محفوظ کر لیا تھا، اور انہوں نے مسلسل اس کو اپنی زبان میں بیان کر دیا۔
کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 357۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.