آخرت کے بجائے سیاست۔ مولانا عبیداللہ سندھی، 1872 تا 1944 عیسوی، ضلع سیالکوٹ کے ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک اردو مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ ان کو ایک اردو کتاب پڑھنے کو ملی۔ یہ مولانا محمد لکھنوی کی "احوال الآخرت" تھی۔
اس کتاب نے ان کے ذہن پر ایسا اثر ڈالا کہ انہوں نے بار بار اس کا مطالعہ کیا اور بالآخر 1887 عیسوی میں اسلام قبول کر لیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ وہ شخص جس کو آخرت کے احوال نے اسلام کی طرف کھینچا تھا، وہ اپنی تمام عمر لوگوں کو سیاست کے احوال بتانے میں مشغول رہا، یہاں تک کہ 72 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلا گیا۔ کتاب "اسباقِ تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 357۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.