Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kaam se pahl-e-kaam ki bunyad tayyar kijiye

Urdu · 4 min

کام سے پہلے کام کی بنیاد تیار کیجیے۔ علی گڑھ میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج کا قیام 1875 عیسوی میں ہوا، 1920 عیسوی میں مسلم یونیورسٹی وجود میں آئی، مگر مسلمانوں کے اس سب سے بڑے تعلیمی ادارے میں تجارتی تعلیم، یعنی کامرس، کا شعبہ پہلی بار 1945 میں قائم ہو سکا۔ یعنی ادارے کے ابتدائی قیام کے 70 سال بعد، یونیورسٹی میں تجارتی شعبے کے قائم ہونے کا لطیفہ بڑا سبق آموز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین، سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی، مجوزہ میڈیکل کالج کے چندے کے لیے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے تھے۔

اس سلسلے میں وہ کانپور پہنچے، وہاں چندے کی مہم کے دوران ایک تاجر نے پوچھا: "آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے لیے سب سے زیادہ چندہ کس طبقے سے ملا؟ " ڈاکٹر ضیاء الدین نے بتایا کہ تاجروں سے۔ تاجر نے کہا: "جب قومی منصوبوں میں زیادہ تعاون آپ کو تاجروں سے ملتا ہے، تو قوم کو تجارتی ترقی کی راہ پر لانے کے لیے آپ اپنی یونیورسٹی میں تجارتی تعلیم کا شعبہ کیوں نہیں کھولتے؟ " اس واقعے سے سابق وائس چانسلر کو احساس ہوا، اور واپس آ کر انہوں نے اس کی کوشش شروع کی، یہاں تک کہ 1945 میں پہلی بار مسلم یونیورسٹی میں کامرس کا شعبہ کھولا گیا۔

یہ واقعہ اگرچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر صرف جزوی طور پر صادق آتا ہے، مگر ہماری عام قیادت کی وہ مکمل تصویر ہے۔ ہمارے لیڈروں کا یہ حال ہے کہ ان کی ساری بنیاد قومی چندے پر قائم ہے۔ وہ آئے دن قوم سے چندہ مانگنے کے لیے نئی نئی اسکیمیں لے کر اٹھتے رہتے ہیں، مگر یہ لیڈر اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے کہ وہ قوم کو چندہ دینے کے قابل بنانے کے لیے بھی ان کے درمیان کوئی منصوبہ چلائیں اور اس کے لیے جدوجہد کریں۔ کسی منصوبے کی کامیابی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ قوم کو اس کے لیے تیار کیا جا چکا ہو۔

اگر آپ مسلمانوں کا انگریزی اخبار وجود میں لانا چاہتے ہیں، تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ مسلمانوں میں ایک بڑا طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہو جو انگریزی میں اخبار کے مطالعے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایک مسلم یونیورسٹی حقیقی معنوں میں مسلم یونیورسٹی رہے، تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ مسلم نوجوانوں میں محنت اور جدوجہد کا اتنا حوصلہ پیدا کر دیں کہ وہ امتیازی لیاقت پیدا کر کے مسلسل اس پر اپنا قبضہ باقی رکھ سکیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اردو زبان باقی رہے، تو یہ اسی وقت ممکن ہے کہ عوام میں اردو لٹریچر کی طلب اتنی بڑھ جائے کہ خود اپنے بل پر اس کے تحفظ کا انتظام ہو جائے۔ یہی معاملہ ملی تعمیر کے تمام شعبوں کا ہے۔

اگر آپ ملت کو اوپر اٹھانا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے فرد کو اٹھانے کا انتظام کیجیے۔ اگر آپ ملی ترقی کے لیے کوئی اقدام کرنا چاہتے ہیں، تو اس سے پہلے ابتدائی سطح پر ضروری تیاریاں کر لیجیے۔ چھت والے آپ اسی وقت بن سکتے ہیں جبکہ بنیاد کی سطح پر آپ نے اپنے حصے کا کام پورا کر لیا ہو۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 355۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.