ملت کا سرمایہ۔ ڈاکٹر شفیق احمد ندوی، پیدائش 1945 عیسوی۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں بخوبی طور پر جانتے تھے، اور ایک زبان سے دوسری زبان کا برجستہ ترجمہ کر سکتے تھے۔ اور ایک زبان سے دوسری زبان کا برجستہ ترجمہ کر سکتے ہیں۔
30 جون 1982 عیسوی کی ایک ملاقات میں میں نے انہیں قلم، کاغذ دیا اور کہا کہ میں ایک انگریزی عبارت بولتا ہوں، اس کو آپ اس کاغذ پر لکھیں، اس کاغذ پر لکھیں، اور پھر اس کا ترجمہ عربی زبان میں کریں۔ یہ انگریزی عبارت الرسالہ جولائی 1982 عیسوی، صفحہ 14 کی تھی، جو کہ حسبِ ذیل ہے: "You have removed most of the roadblocks to success when you have learned the difference between motion and direction." میں رک رک کر انگریزی عبارت بول رہا تھا، اور وہ قلم ہاتھ میں لیے ہوئے کاغذ پر لکھ رہے تھے۔ جیسے ہی میں نے بولنا ختم کیا، انہوں نے کاغذ میری طرف بڑھا دیا۔ میرے ذہن میں تھا کہ انہوں نے انگریزی عبارت لکھی ہے، اور اب مطابقت دیکھنے کے لیے کاغذ مجھے دے رہے ہیں تاکہ اس کے بعد اس کا عربی ترجمہ کریں، مگر میں نے تعجب کے ساتھ دیکھا کہ کاغذ پر صرف عربی ترجمہ لکھا ہوا ہے۔
میں جب انگریزی عبارت بول رہا تھا، اسی وقت وہ ساتھ ساتھ اس کا عربی ترجمہ لکھتے جا رہے تھے۔ ان کا عربی ترجمہ یہ تھا: "لقد عزلتم معظم عوائق الشارع نحو النجاح عندما عرفتم الفرق بين الحركة والاتجاه." ملت کے اندر اس طرح کے کتنے نوجوان ہیں جو نادر صلاحیتوں کے مالک ہیں؟ وہ ملت کا اثاثہ ہیں، مگر یہ اثاثہ ملت کے کام نہیں آتا۔ اس قسم کے تمام لوگوں کو اغیار مہنگی قیمت دے کر خرید لیتے ہیں، اور ان کو دوسرے کاموں میں لگا دیتے ہیں۔
اسلام کے فرزند اسلام کے کام نہیں آتے۔ اسلام کے محاذ پر ہر طرف کمتر صلاحیت کے لوگ لگے ہوئے ہیں، اور اعلیٰ صلاحیت کے لوگ دوسرے محاذوں پر اپنی صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں۔ یہی موجودہ زمانے میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور اسی مسئلے کے حل پر ملت کے نئے مستقبل کا راز چھپا ہوا ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 354۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.