Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Eik aham Kitab

Urdu · 4 min

ایک اہم کتاب: "مستشرقین کے جواب میں موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے"، مگر ان کا اصل جواب یہ ہے کہ علوم اسلام پر ایسی اعلیٰ کتابیں تیار کی جائیں جو اپنی تحقیق اور معلومات کے اعتبار سے مستشرقین کی باتوں کا مثبت جواب بن جائیں۔ اس سلسلے میں یہاں ہم عظیم ترکی عالم فواد سیزگین کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے اس میدان میں انتہائی قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔ موصوف نے 25 سالہ مطالعے کے بعد حسبِ ذیل کتاب جرمن زبان میں تیار کی ہے: "Jesuitische Theoretische Sicherheitssystems (Leiden, 1967)". اس کتاب کا معیاری عربی ترجمہ دکتور محمود فہمی حجازی اور دکتور فہمی ابوالفضل نے کیا ہے۔

اس کا نام "تاریخ التراث العربی" ہے، وہ 3 جلدوں پر مشتمل ہے اور اس کو "الهيئة المصريّة العامة للكتاب" قاہرہ نے 1978 میں شائع کیا ہے۔ پہلی جلد 3 حصوں پر مشتمل ہے اور اسی طرح دوسری جلد بھی۔ المجلد الأول: علوم القرآن، علم الحدیث، التدوين التاريخي إلى غاية سنة 430 ہجری تقريباً۔ المجلد الثاني: الفقہ، العقائد، التصوف إلى غاية سنة 430 ہجری تقریباً۔

کتاب کی تیسری جلد تاریخِ شعرِ عربی سے متعلق ہے۔ ہر فصل کے شروع میں نہایت قیمتی مقدمہ ہے، جس میں خالص علمی اور تاریخی انداز میں متعلقہ فصل کا تعارف ہے۔ اس کے بعد صحابہ سے لے کر 5ویں صدی ہجری کے ابتدائی نصف تک ایک ایک اسلامی شخصیت کے حالات اور کارنامے کا محققانہ تذکرہ ہے، جو ان موضوعات پر مستند حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ اپنی قسم کی واحد کتاب ہے، اور اس قابل ہے کہ تمام اسلامی اداروں کے کتب خانوں میں "کتبِ حوالہ" کی الماری میں موجود ہو۔

اس موضوع پر ماضی میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئی ہیں، مثلاً ابن الندیم کی "الفارست 377"، تاش کبریٰ زادہ 968 ہجری کی "مفتاح السعادہ"، حاجی خلیفہ متوفی 1067 ہجری کی "کشف الظنون"، اسماعیل البغدادی متوفی 1339 ہجری کی "ہدیت العارفین"، کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 353۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.