Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Salahiyatein Islam ke kaam na aa sakin

Urdu · 6 min

صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آ سکیں۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی 1896 تا 1977، مولانا اقبال احمد سہیل 1887 تا 1955 کے ساتھیوں میں سے تھے۔ مولانا سہیل کی علی گڑھ کی تعلیمی زندگی کے زمانے کا ایک واقعہ وہ اس طرح بیان کرتے ہیں: "یہ 1918 یا 1919 عیسوی کا واقعہ ہے، یونین میں امُ السن عربی پر پروفیسر خواجہ کمال الدین مرحوم کی اردو میں تقریر تھی۔ مرحوم نے بڑی قابلیت اور اعتماد کے ساتھ تقریر شروع کی۔

مولانا سہیل کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ سردیوں کا زمانہ تھا، مولانا کو احباب اسپتال لائے تھے۔ یونین میں مجمع دیکھا تو کہا: 'مولانا، تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سننے چلیں۔ ' مولانا، تکلیف نہ ہو تو ذرا تقریر سنتے چلیں۔

مولانا نے کہا: 'اچھی بات ہے، لیکن آنکھوں میں تکلیف زیادہ ہے، جلد اٹھائیں گے۔ ' سب لوگ یونین میں آئے۔ مولانا سر سے پاؤں تک بڑے وزنی لبادے میں ملفوف تھے۔ سر پر اونی کنٹوپ تھا، آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، اور اس پر ایک ہرے رنگ کا چھجہ یعنی شیڈ لگا ہوا تھا۔

خواجہ صاحب نے کم و بیش 2 گھنٹے تک تقریر کی۔ حاضرین محوِ حیرت تھے۔ تقریر ختم ہوئی تو پریسیڈنٹ نے اعلان کیا کہ مولانا سہیل فاضل مقرر کا طلبہ کالج کی طرف سے شکریہ ادا کریں گے۔ مولانا کے خلاف سازش کامیاب ہوئی۔

دوستوں اور ساتھیوں نے مولانا کو ہاتھوں ہاتھ ڈیس پر پہنچا دیا۔ مولانا کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، میز کے پاس کھڑے کیے گئے۔ تھوڑی سی ناک، اس سے ذرا بڑی تھوڑی، اس سے ذرا بڑی تھوڑی، اور ہاتھ کی صرف انگلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ مولانا نے بے تکلف تقریر شروع کر دی۔

اس اعتماد سے گویا تمام عمر اسی مبحث پر تیاری کی تھی۔ جو لوگ یونین کے مجمعے سے واقف ہیں، وہ جانتے ہوں گے کہ اچھے مقرر کے بعد کسی اور کی تقریر سننے کے لیے کوئی نہیں ٹھہرتا۔ اور صدر کا شکریہ بھی اسی بدنظمی کا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ مولانا سہیل نے بھی امُ السن عربی پر تقریر شروع کی۔

پون گھنٹے تک تقریر کی۔ نئے نئے پہلوؤں سے موضوع پر روشنی ڈالی، نئی نئی مثالیں پیش کیں۔ تقریر کو اس درجہ دل نشین اور کہیں کہیں اتنا شگفتہ بنا دیا کہ خواجہ کمال الدین نے بے اختیار ہو کر مولانا کو گلے سے لگا لیا اور فرمایا: 'تمہارے ایسا جامِ کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے، تمہارے ایسا جامِ کمالات ساتھ کام کرنے والا مل جائے، تو میں اسلام کا جھنڈا یورپ کی سب سے بلند چوٹی پر نصب کر دوں۔ '" مضامین رشید، صفحہ 43۔

مولانا اقبال احمد سہیل ایم اے (ایم ایل بی) غیر معمولی ذہین آدمی تھے۔ اردو کے علاوہ ان کو عربی، انگریزی اور فارسی پر بے پناہ قدرت حاصل تھی۔ ان کے دو شعر یہ ہیں: "اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر، کہ دانہ بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر۔ اے کاروانِ ملت، اٹھ!

تو بھی گامزن ہو، ہر سمت سے صدائیں آتی ہیں ترقوں کی۔ " اسلامی دعوت کا کام وہ انتہائی اعلیٰ معیار کے ساتھ کر سکتے تھے۔ مگر ان کی تمام صلاحیتیں شاعری اور وکالت کی نظر ہو کر رہ گئیں۔ موجودہ زمانے میں اس طرح کے کتنے لوگ ہیں جو فطرت سے اعلیٰ درجے کی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے، مگر ان کی اعلیٰ صلاحیتیں اسلام کے کام نہ آ سکیں۔

وہ سطحی چیزوں کے پیچھے لگے رہے، یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے گئے۔ کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 351۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.