Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kitna Farq

Urdu · 4 min

کتنا فرق! 1928 عیسوی میں کلکتے میں ایک ہی زمانے میں دو اجلاس ہوئے: ایک کانگریس کا، دوسرا تحریک خلافت کا۔ اس وقت مہاتما گاندھی کانگریس کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اور مولانا محمد علی تحریک خلافت کے۔ خان عبدالغفار خاں اپنے کچھ پٹھان ساتھیوں کو لے کر کلکتہ گئے، اور دونوں کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔

خان عبدالغفار خاں اپنا ایک تاثر اپنی خود نوشت سوانح عمری میں ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: "گاندھی جی کانگریس کے اجلاس میں تقریر کر رہے تھے، ایک نوجوان بار بار کھڑا ہو جاتا تھا اور گاندھی جی پر سخت حملے کرتا تھا۔ " گاندھی جی بالکل غصہ نہیں ہوتے تھے، وہ منہ کھول کر قہقہہ لگاتے ہوئے ہنس پڑتے تھے۔ اس کا میرے اوپر بڑا اثر ہوا۔ جب میں واپس اپنے کیمپ میں آیا تو میں نے یہ سرگزشت اپنے ساتھیوں کو سنائی اور کہا کہ "دیکھو، یہ ہندوؤں کا لیڈر ہے، اس کے اخلاق کو دیکھو، اور اپنے مسلمان لیڈروں کے اخلاق کو دیکھو۔

" اس وقت ہم کچھ پٹھان لوگ خلافت کانفرنس میں محمد علی کے پاس گئے کہ یہ ہمارا لیڈر ہے، اس کے ساتھ اس بارے میں چند باتیں کریں۔ محمد علی باہر آئے تو ہم نے ان سے اس طریقے سے اپنی بات کہنی شروع کی کہ "محمد علی صاحب، آپ ہم مسلمانوں کے لیڈر ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ " کل ہم کانگریس کے اجلاس میں گئے تھے، تو وہاں گاندھی جی تقریر کر رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ بعض نوجوان ان کی مخالفت کر رہے تھے، لیکن گاندھی جی ان کے سامنے ہنس دیتے۔

ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کی وجہ سے ان کی تقریر میں کسی قسم کی تیزی یا تندی پیدا نہیں ہوئی۔ پھر میں نے کہا کہ "آپ ہمارے رہنما ہیں، ہم آپ کی برتری کے خواہاں ہیں۔ اگر آپ اپنے اندر صبر کا مادہ پیدا کر لیں تو یہ بہت ہی اچھا ہوگا۔ " محمد علی صاحب ہماری باتیں سنتے ہی بڑے ناراض اور غضب آلود ہوئے، اور کہا کہ "دیکھو، یہ جنگلی پٹھان ہمیں سمجھانے آئے ہیں، اور پھر ہم کو وہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

" اور پھر ہم کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ہم ان کے اس رویے سے بڑے مایوس ہوئے، اور ناراض بھی۔ اور میں نے اور میں تو پھر اس کے بعد خلافت کے ان جلسوں میں بالکل شریک نہیں ہوا، اور چلا آیا۔ واپس اپنے گاؤں جا کر میں نے اپنے پختون ساتھیوں سے یہ واقعہ بیان کیا، اور کہا کہ کلکتے میں میں خلافت اور کانگریس دونوں کے جلسوں میں شریک ہوا۔

وہاں میں نے دیکھا کہ ہمارے مسلمان لیڈروں اور ہندوؤں کے لیڈروں میں کتنا بڑا فرق ہے۔ ایک طرف غصے کے جذبات بھڑکتے دکھائی دیے، اور دوسری طرف محبت اور پریم سے باتیں کی جاتی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ گاندھی جی واقعی ہندوؤں کے ہی لیڈر نہیں رہیں گے، بلکہ وہ مسلمانوں کی لیڈری بھی کریں گے۔ ان کا مزاج گرم نہیں، بلکہ ان کے جذبات ٹھنڈے ہیں۔

وہ گالیاں کھا کر بھی ہنس دیتے ہیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 349۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.