Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Be Faida Batein

Urdu · 3 min

بے فائدہ باتیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی، 1863-1943 کو ایک شخص نے خط لکھا اور یہ دریافت کیا کہ "فلاں شرعی مسئلے کی حکمت کیا ہے؟ " مولانا تھانوی نے جواب میں لکھا: "حکمت کا سوال کرنے، فعل کی حکمت تم سے پوچھتے ہیں۔ " بہت سے لوگوں کا یہ عجیب مزاج ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں۔

انہیں اس کی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنا احتساب کریں، اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دیں، البتہ خارجی مسائل میں موشگافیاں نکالنے اور ان کی حکمتیں معلوم کرنے کا انہیں بہت شوق ہوتا ہے۔ یہ ذہن قطعاً غیر اسلامی ہے۔ جن لوگوں کا ذہنی ڈھانچہ اس قسم کا بن جائے، وہ کبھی حق کو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کمانے اور گھر بنانے کا معاملہ ہو تو ہر آدمی اپنے بارے میں سوچتا ہے۔

ہر آدمی کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے کہ اس کی کمائی اچھی ہو جائے اور اس کا مکان اچھا بن جائے۔ مگر دین اور آخرت کا معاملہ ہو تو ہر آدمی ایسے مسائل پر بحث کرنا پسند کرتا ہے جس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے نہ ہو۔ ایک بزرگ جنہوں نے ایک بڑے ادارے میں 30 سال فتویٰ نویسی میں گزارے تھے، انہوں نے کہا کہ اس پوری مدت میں ہمارے پاس جو استفسار آتے رہے، وہ زیادہ تر دوسروں کے بارے میں تھے، اپنے بارے میں بہت کم ہم سے کسی نے سوال کیا: "فلاں کی جائیداد میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے؟ " "فلاں شخص جو ایسا اور ایسا ہے، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز؟

" وغیرہ۔ اس قسم کے سوالات تو بہت آتے رہے، مگر کسی نے ہم سے یہ نہ پوچھا کہ اس کی اپنی شرعی ذمہ داریاں کیا ہیں، وہ اپنے صاحبِ معاملے کے حقوق کس طرح ادا کرے، وہ اپنے پڑوسیوں کے درمیان کس طرح رہے، وہ اختلاف اور شکایت کے موقع پر لوگوں سے کس قسم کا سلوک کرے، فلاں شخص جس کو وہ ستا رہا ہے اس کو ستانا اس کے لیے جائز ہے یا ناجائز، فلاں آدمی جس کا اس نے پیسہ دبا رکھا ہے وہ اس کو دبانا چاہیے یا نہیں دبانا چاہیے، فلاں شخص جس کو وہ بے عزت کر رہا ہے وہ اس کے لیے درست ہے یا نہیں۔ آدمی دوسروں میں گم رہتا ہے حالانکہ اس کو اپنے آپ میں گم ہونا چاہیے۔ وہ خارجی مسائل میں جیتا ہے حالانکہ اس کو اپنے اندرونی مسائل میں جینا چاہیے۔

وہ دوسروں کے دین و ایمان کو ناپتا ہے حالانکہ اس کو وہ پیمانہ حاصل کرنا چاہیے جس میں وہ اپنے دین و ایمان کو ناپ سکے۔ باہر دوڑنے والے بد جانور کی خبر ہر ایک کو ہے، مگر اپنے دفاع میں بغض اور انتقام کے جو بد جانور بسیرہ لیے ہوئے ہیں، اس کی خبر کسی کو نہیں۔ عبادت گاہ کے باہر کا تماشا ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے، مگر عبادت گاہ کے اندر ہونے والا تماشا کسی کو نظر نہیں آتا۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 348۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.