تھوڑا وقت زیادہ کم۔ سر سید احمد خاں 1817-1898 عیسوی نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا، "وقت کم ہے، اور کام بہت ہے۔ " مجھ میں یہ قوت ہے کہ سورج کو ٹھہرا کر دن کو بڑھا دوں۔ نہ یہ طاقت کہ سورج کون نکلنے سے، نہ یہ طاقت کہ سورج کو نکلنے سے باز رکھ کر رات کو وسعت دے دوں۔
اگر ایک طرف ایک کام پر متوجہ ہو جاتا ہوں تو اور بہت سے ضروری کام رہ جاتے ہیں۔ لیکچروں کا مجموعہ: مرتبہ منشی سراج الدین، 1890، صفحہ 242۔ سر سید نے جو بات اپنے لیے کہی، وہی بات ہر ایک کے لیے صحیح ہے۔ ہر انسان اس مسئلے سے دوچار ہے کہ اس کی زندگی بہت مختصر ہے، مگر اس کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی کوئی حد نہیں۔
آدمی کو تھوڑے سے وقت میں بہت زیادہ کام کرنا ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جان لے تو وہ اپنے اوقات کے معاملے میں بے حد سنجیدہ ہو جائے۔ نہ صرف غیر ضروری بلکہ کم ضروری کاموں سے بھی دور رہ کر، وہ صرف انتہائی ضروری کاموں میں مشغول رہے۔ پھر اگر اس معاملے کو آخرت تک لے جائے، پھر اگر اس معاملے کو آخرت تک لے جائیے تو معاملہ اور زیادہ نازک ہو جاتا ہے۔
آخرت ایک ابدی جگہ ہے، وہاں آدمی کو ہمیشہ ہمیش تک رہنا ہے۔ مگر آخرت کے لیے کام کرنے کا موقع آدمی کو صرف اس محدود مدت تک ملتا ہے جبکہ وہ موجودہ دنیا میں رہ رہا ہے۔ اس دنیا سے اٹھتے ہی آخرت کے لیے عمل کرنے کا موقع ختم ہو جائے گا۔ موجودہ دنیا میں آدمی کی عمر کتنی کم ہوتی ہے، اور اس کا انجام اس کو کتنی زیادہ لمبی مدت تک بھگتنا ہے۔
آدمی کو اگر واقعی معنوں میں اس کا احساس ہو جائے تو وہ اتنا زیادہ محتاط اور سنجیدہ ہو جائے کہ اپنے اوقات کا ایک لمحہ ضائع کرنا بھی اس کو ایسا معلوم ہو جیسے اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا۔ ایک مزدور کے پاس صرف اتنا پیسہ ہو جس سے وہ اپنی دو وقت کی روٹی کا انتظام کر سکے، تو وہ اس پیسے کو محفلِ رقص کا ٹکٹ خریدنے میں ضائع نہیں کرے گا۔ کسی پیدل مسافر کے پاس اگر اتنا ہی وقت ہو کہ وہ رات کے اندھیرے سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائے، تو وہ راستے کو تفریح میں مشغول ہو کر یہ خطرہ مول نہیں لے گا کہ رات کا اندھیرا چھا جائے اور وہ اپنے گھر نہ پہنچ سکے۔ مگر آدمی جس بات کو اپنی دنیا کے معاملے میں بخوبی جانتا ہے، اسی کو وہ آخرت کے معاملے میں بالکل بھول جاتا ہے۔
آدمی کے پاس آخرت کے عمل کے لیے تھوڑا وقت اور بہت معمولی اثاثہ ہے، مگر ہر ایک اس کو وقت تماشوں میں اس طرح ضائع کر رہا ہے جیسے کہ اسے آخرت کی کوئی خبر ہی نہیں۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 347۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.