قدردانی: خلیفہ عبدالحکیم ابتداً عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد میں شعبۂ فلسفے کے صدر تھے، پھر طویل رخصت پر انگلستان گئے تو یہ جگہ خالی ہو گئی۔ مولانا عبدالباری ندوی، 1890 تا 1976، قائم مقام صدر کی حیثیت سے اس عہدے پر مقرر کیے گئے۔ مولانا عبدالباری ندوی نے پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھی تھی، مگر سند کے اعتبار سے ان کے پاس میٹرک کی سند بھی نہ تھی۔ ان کے تقرر میں خاص طور پر مولانا حبیب الرحمن خان شروانی کا حصہ تھا، جو اس وقت حیدرآباد میں صدرالصدور تھے۔
مولانا عبدالباری ندوی حیدرآباد میں 1922 عیسوی سے لے کر 1945 عیسوی تک رہے۔ اس زمانے کا ایک واقعہ وہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں: "حیدرآباد میں میری ملازمت کے 2 سال گزر جانے کے بعد حسبِ قاعدہ استقلال کی کارروائی پیش ہوئی۔ " اس زمانے میں حیدرآباد میں گزٹڈ پوسٹ پر استقلال کے لیے خود اعلیٰ حضرت کی منظوری ضروری تھی۔ ابھی غالباً کارروائی اعلیٰ حضرت تک پہنچی بھی نہ تھی کہ ڈیوڑی میں، یعنی شروانی صاحب کے کسی مہمان نے، اعلیٰ حضرت کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی کہ شروانی صاحب نے فلسفے کا صدر ایسے شخص کو بنوا دیا ہے جس کو فلسفہ تو کیا، سرے سے کوئی ادنیٰ سندھ بھی حاصل نہیں۔
اعلیٰ حضرت نے شروانی صاحب سے جواب طلب کر لیا۔ شروانی صاحب نے میرا رسالہ "مذہب اور عقلی یاد" کے ساتھ اپنا عریضہ منسلک کر کے یہ تحریر فرمایا کہ ان کی سند یہ ہے کہ فلسفے نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے، جس کا اندازہ سرکار خود رسالہ ھذا کی چند سطروں سے ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے استقلال کی کارروائی پر اپنے دستخط کر دیے۔ علامہ اقبال متوفیٰ 1938 عیسوی کا واقعہ ہے کہ اس زمانے کے گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیلن نے ایک بار ان سے دریافت کیا کہ آپ کے خیال میں کوئی ایسا موزوں شخص ہے جس کی حکومت کی طرف سے "شمس العلماء" کا خطاب دیا جائے؟
اس کے جواب میں علامہ اقبال نے مولوی میر حسن کا نام تجویز کیا، جو اس وقت میرے کالج سیالکوٹ میں استاد تھے۔ گورنر نے کہا: "میں نے ان کا نام آج پہلی بار آپ کی زبان سے سنا ہے۔ کیا مولوی صاحب نے کوئی کتاب بھی لکھی ہے؟ " علامہ اقبال نے جواب دیا: "ان کی لکھی ہوئی تصنیف تو نہیں، البتہ ان کی ایک زندہ تصنیف ضرور موجود ہے۔
" گورنر نے حیران ہو کر پوچھا: "یہ زندہ تصنیف کیا ہے؟ " علامہ اقبال نے کہا: "میں ان کی زندہ تصنیف ہوں، وہ میرے محترم استاد ہیں۔ " گورنر اس جواب سے بہت خوش ہوا اور جلد ہی ایک سادہ تقریب میں مولوی میر حسن کو "شمس العلماء" کا خطاب دے دیا گیا۔ کتاب: "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 344۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.