اسلام کا عطیہ فرانس کے حکمران نپولین بونا پارٹ نے سوئز میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مصر میں اپنی فوجیں داخل کر دی تھیں، اور مصر کو فرانس کے قبضے میں لے لیا تھا۔ 1798 میں جب نپولین اسکندریہ میں داخل ہوا تو اس نے عربی زبان میں ایک منشور شائع کیا اور اس کو مصر کے تمام شہروں میں تقسیم کیا۔ اس منشور کا آغاز حسبِ ذیل الفاظ سے ہوتا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم، لا إله إلا الله، لا ولد له، لا شريك له في ملكه. من طرف الفرنساوية المبنية على أساس الحرية والسوية: الإسلام والفكر المعاصر للدكتور حلمي مرزوخ، بیروت 1982، صفحہ 29 یعنی شروع اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے۔
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی کوئی اولاد نہیں، اور اس کے اقتدار میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ منشور فرانس کی طرف سے ہے، جس کا نظام آزادی اور مساوات کی بنیاد پر قائم ہے۔ نپولین نے بظاہر اپنے اس منشور میں سیاسی مصلحت کے تحت اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کو ملانے کی کوشش کی ہے۔ اس نے توحید کو اسلامی عطیہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے آزادی اور مساوات کو مغربی تہذیب کی دین قرار دیا ہے، گویا کہ دنیا کو اگر توحید اسلام کے ذریعے ملی تو آزادی اور مساوات اس کو فرانس کے انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی۔
گویا کہ دنیا کو اگر توحید اسلام کے ذریعے ملی تو آزادی اور مساوات اس کو فرانس کے انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح توحید کی نعمت انسان کو عملاً اسلامی انقلاب کے بعد ملی، ٹھیک اسی طرح آزادی اور حریت کا تحفہ بھی اس کو اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ملا ہے۔ غیر اللہ کو عظمت دینے کا نام شرک ہے، اور اسی غیر خدائی عظمت کا یہ نتیجہ تھا کہ انسانی سماج آزادی اور حریت سے محروم تھا۔ شرک نے کچھ انسانوں کو پیدائشی طور پر برتر ٹھہرا کر دوسرے انسانوں کو ان کے مقابلے میں پیدائشی طور پر کمتر ٹھہرا رکھا تھا۔
توحید نے ایک خدا کے مقابلے میں سب کو یکساں حیثیت دے دی۔ توحیدی انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا، جس نے بالآخر تمام انسانوں کو برابر ثابت کر کے انہیں اس ارتقائی مرحلے تک پہنچایا جس کو انسانی آزادی اور انسانی مساوات کہا جاتا ہے۔ کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 343۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.