تاریخ کا نوشتہ: 26 اکتوبر 1967 عیسوی کو تہران کے قصرِ گلستاں میں ایک بے حد شاندار جشن منایا گیا۔ یہ سابق شاہِ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی تاجپوشی تھی۔ اس موقع پر جو غیر معمولی اہتمام کیا گیا، اس کے اخراجات کی مقدار اربوں روپیے تک پہنچتی ہے۔ اس زمانے میں راقم الحروف نے "شاہِ ایران کی تاجپوشی" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا، جس میں جشن کی مصریفانہ تفصیلات دیتے ہوئے آخر میں لکھا تھا: "یہ شاہ قسم کے لوگ بھی حالات سے کتنا بے خبر ہوتے ہیں، وہ عوامی انقلاب کے آتش فشاں پہاڑ کے اوپر کھڑے ہوئے ہیں اور ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس سے اس آتش فشاں کو کچھ اور چنگاریاں حاصل ہو جائیں۔
اگر یہ لوگ دانشمند ہوتے تو ان جھوٹے مظاہروں میں سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے وہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے خرچ کرتے۔ " اس طرح، اگرچہ ان کے اصلی عیش اور اقتدار میں کمی نہ ہوتی، مگر عوام کو خوش کر کے وہ اپنی شہنشاہیت کی عمر کو ضرور طویل کر سکتے تھے۔ عجیب بات ہے، اس دنیا میں حقیقی فکرِ آخرت تو نایاب ہے ہی، دانشمندانہ قسم کی دنیا پرستی بھی نایاب ہے۔ زیادہ تر لوگ بے سوچے سمجھے زندگی گزارتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ اپنی بے شعوری کے انجام سے دوچار ہوتے ہیں، اس وقت انہیں ہوش آتا ہے، مگر اس وقت کا ہوش آنا کچھ کام نہیں دیتا۔
مطبوعہ: الجمعیہ ویکلی، 3 نومبر 1967 عیسوی۔ مذکورہ تحریر کے تقریباً ساڑھے 11 سال بعد، فروری 1979 میں یہ واقعہ ہوا کہ رضا شاہ پہلوی کو اپنا اقتدار اور اپنا تمام جاہ و حشمت چھوڑ کر ایران سے جانا پڑا۔ وہ نہایت مایوسی اور ناکامی کی حالت میں ایک مغربی ہسپتال میں مر گئے۔ اس کے بعد ایران میں آیت اللہ خمینی کا دور شروع ہوا۔
فروری 1979 عیسوی میں جب آیت اللہ خمینی چارٹرڈ ہوائی جہاز کے ذریعے پیرس سے تہران پہنچے اور سارا ایران "خمینی زندہ باد" کے نعروں سے گونج اٹھا۔ خمینی اسلام کے نام پر ایران میں برسرِ اقتدار آئے تھے۔ ساری دنیا اسلام میں اس بات پر خوشی منائی گئی کہ آیت اللہ خمینی نے ایران میں اسلامی نظام قائم کر دیا ہے۔ تاہم اس معاملے میں بھی راقم الحروف کی رائے عام لوگوں سے بالکل مختلف تھی۔
جس زمانے میں کہ جدید حکمران بھی بالآخر وہی ثابت ہوں گے جو ان سے پہلے کے حکمران رہے ہیں، جو ان سے پہلے کے حکمران رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 341۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.