← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Jihad ke Naam par
Urdu · 11 min
جہاد کے نام پر، 18ویں صدی عیسوی کے آخر میں، روہیل کھنڈ—شمالی ہند میں روہیلہ خاندان کے نواب رحمت خان کی حکومت تھی۔ یہ افغانی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور ہوش سے زیادہ جوش کے مالک تھے۔ ان کے اس مزاج کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ان کی مخالفت ہو گئی۔ کمپنی نے اودھ، یعنی لکھنؤ کے نواب شجاع الدولہ کو نواب رحمت خان سے لڑا دیا۔
اس جنگ میں نواب شجاع الدولہ کو ایسٹ انڈیا یا کمپنی کی مدد حاصل تھی، چنانچہ ان کو کامیابی ہوئی اور 1774 میں میرن پور کٹرے کی جنگ میں نواب رحمت خان مارے گئے۔ اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت نواب شجاع الدولہ کی حکومت اودھ اور روہیل کھنڈ، یعنی لکھنؤ سے لے کر بریلی تک، قائم ہو گئی۔ تاہم یہ حکومت صرف 27 سال باقی رہی۔ 1801 عیسوی میں ادائیگیِ قرض کے نام پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے روہیل کھنڈ کو براہِ راست اپنے قبضے میں لے لیا۔
اس زمانے میں ایک مفتی محمد عیوس بدایونی تھے جو بریلی میں افطا کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ان کا تقرر نواب رحمت خان کے زمانے میں ہوا تھا، تاہم بعد کے زمانے میں بھی وہ بدستور اپنے عہدے پر باقی رہے۔ طویل خاندانی روایت کی وجہ سے عوام کے اندر ان کو بڑا ادب و احترام حاصل تھا۔ عوام کے علاوہ حکومت کے حلقے بھی ان کی عزت کرتے تھے۔
اس دوطرفہ مقبولیت کو اگر وہ حکمت کے ساتھ استعمال کرتے تو وہ کوئی بڑا دینی کام کر سکتے تھے، مگر اس کو انہوں نے بے معنی تصادم میں ضائع کر دیا۔ 1814 عیسوی کا واقعہ ہے، جبکہ روہیل کھنڈ میں انگریزی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ انہوں نے نظم و نسخ کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اقدام کیا: انہوں نے ایک قانون پاس کیا جو 'چوکیداری ٹیکس' کے نام سے مشہور ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت بڑے بڑے شہروں میں پولیس کی تنظیم قائم کی جائے، اور اس خرچ کو چوکیداری ٹیکس وصول کر کے پورا کیا جائے۔
چوکیداری ٹیکس کا قانون روہیل کھنڈ کے علاقے کے دوسرے مقامات پر کسی احتجاج یا مزاحمت کے بغیر نافذ ہو گیا۔ لیکن بریلی میں صورتحال برعکس تھی۔ بریلی نوابی دور سے مسلمانوں کا مرکز تھا۔ یہاں سابق نواب رحمت خان کے بچے ہوئے افرادِ خاندان موجود تھے۔
انہوں نے چوکیداری ٹیکس کو بہانہ بنایا اور اس کے نام پر انگریزی حکومت کے خلاف شورش پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں مفتی محمد عیوس نے ان کا پورا ساتھ دیا۔ اب سیاست اور مذہب دونوں ایک ہو گئے۔ مفتی محمد عیوس نے فتویٰ دیا کہ چوکیداری ٹیکس سراسر ناجائز ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے اوپر جزیہ لگانے کے ہم معنی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس علاقے کے مسلم عوام اس ٹیکس کے خلاف ہو گئے۔ خاص طور پر افغانی پٹھان بڑی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے، جو پہلے سے انگریزوں سے بگڑے ہوئے تھے۔ کیونکہ انگریزوں نے ان کی افغان حکومت کو اس علاقے سے ختم کیا تھا۔ مفتی محمد عیوس کے فتوے کے بعد مسلمانوں کے دبے ہوئے جذبات ابھر آئے۔
شہر بریلی میں زبردست ہڑتال کی گئی۔ مٹڈ موبلٹن اس وقت یہاں ضلع مجسٹریٹ تھے۔ مٹڈ موبلٹن نے چوکیداری ٹیکس کی وصولی کے لیے 16 اپریل 1816 عیسوی کی قطعی تاریخ مقرر کر دی اور اس کا اعلان کرا دیا۔ جب یہ تاریخ آئی تو بریلی کے مسلم عوام بڑی تعداد میں مفتی محمد عیوس کے مکان کے سامنے جمع ہو گئے۔
مفتی صاحب نے اس مجمعے کی قیادت سنبھال لی۔ ان کو معلوم ہوا کہ انگریز مجسٹریٹ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف آ رہا ہے۔ انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ انگریز مجسٹریٹ کو آگے بڑھنے سے روکیں اور اس کو یہاں نہ آنے دیں۔ اس کے بعد جو ہونے والا تھا، وہی ہوا۔
انگریز مجسٹریٹ نے بھی آگے بڑھنے پر اصرار کیا، جس کی وجہ سے انگریزی پولیس اور مفتی محمد عیوس کے حامیوں کے درمیان تصادم ہو گیا۔ اس کا نقصان مفتی محمد عیوس اور اس کے حامیوں کو پہنچا۔ کیونکہ ان کے پاس لاٹھی ڈنڈے کے سوا اور کوئی ہتھیار نہ تھا، جبکہ انگریز پولیس بندوقوں سے مسلح تھی۔ اس نے مجمعے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ہلاک ہو گئے اور اس سے زیادہ زخمی ہوئے۔
تاہم مفتی محمد عیوس نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے حسینی باغ، بریلی میں مسلمانوں کو جمع کیا اور یہاں پرجوش تقریر کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی حکومت سے اسلام کو خطرہ ہے، اس لیے اس سے لڑنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اب اطراف کے علاقوں سے بھی لوگ آنے لگے، اور چند دن کے اندر تقریباً 5000 روہیلہ پٹھان تلواروں اور آتشیں ہتھیاروں سے مسلح ہو کر مفتی محمد عیوس کی سرداری میں جمع ہو گئے۔
انگریزوں نے مصالحت دکھائی اور گفت و شنید سے مسئلے کو حل کرنا چاہا، مگر مفتی محمد عیوس صاحب جھکنے کے لیے تیار نہ تھے۔ دوسری طرف بریلی، رام پور، پیلی بھیت، بیجنور، بدایوں، شاہجہاں پور تک کے پٹھان جہاد کا اعلان سن کر آتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد تقریباً 15000 ہو گئی۔ مفتی محمد عیوس کے حوصلے اب بہت بڑھ گئے۔
انہوں نے صلح کے لیے انگریز مجسٹریٹ کے سامنے مندرجہ ذیل چار شرطیں پیش کیں: نمبر 1، چوکیداری ٹیکس کو منسوخ کیا جائے۔ نمبر 2، بریلی کے انگریز کو توال کو ہمارے حوالے کیا جائے تاکہ ہم اس کے اوپر شرعی سزا نافذ کریں۔ نمبر 3، پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔ نمبر 4، چوکیداری ٹیکس کے تمام مظاہرین کی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔
انگریز حکومت تمام شرطوں کو مان سکتی تھی، مگر وہ دوسری شرط کو کسی قیمت پر نہیں مان سکتی تھی۔ دوسری طرف مفتی محمد عیوس کے حامیوں کے حوصلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ گفت و شنید کے دوران بھی وہ پرامن نہ رہے۔ عین اس زمانے میں ان میں سے کچھ لوگوں نے ڈسٹرکٹ جج مسٹر کولیسٹرل کے لڑکے کو قتل کر دیا۔ بالآخر انگریز سپاہیوں کی بڑی تعداد نے 18 اپریل 1816 کو مفتی محمد عیوس کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔
سخت جنگ ہوئی، مگر انگریزی بندوقوں کے مقابلے میں روہیلے افغانوں کے روایتی ہتھیاروں نے شکست کھائی۔ تقریباً 300 روہیلے جان سے مارے گئے اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد روہیلے افغانوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ وہ میدان چھوڑ کر بھاگے۔
مفتی محمد عیوس کا تیاری کے بغیر جہاد ایک ہی دن کے مقابلے میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مفتی محمد عیوس بریلی چھوڑ کر رام پور چلے گئے، جہاں صرف ایک سال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ چوکیداری ٹیکس کو برداشت نہ کرنے والا بالآخر ملت کو اس سے بہت زیادہ بڑی بربادی کے حوالے کر کے اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کی بے معنی لڑائیاں، جو 100 سال سے بھی زیادہ عرصے سے ملت کے اندر جاری ہیں، وہ ہرگز جہاد نہیں ہیں۔
یہ جہاد کے نام پر اپنے جان و مال کو ضائع کرنا ہے۔ جہاد دراصل اللہ کی راہ میں کوشش کرنا ہے، اور اللہ کا کام دعوت الی اللہ ہے۔ اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام ممکن قوتوں کو دعوت الی اللہ کے میدان میں لگائیں۔ وہ دوسری قوموں کو ہدایتِ خداوندی کے راستے پر لانے کی کوشش کریں۔
یہی اہل ایمان کا اصل جہاد ہے۔ مسلمانوں کو اس اصل جہاد کا صحیح احساس نہیں۔ اگر ان کو اس کا احساس ہو تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھنے کو اپنے لیے حرام سمجھ لیں۔ کیونکہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے سے داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ختم ہوتی ہے، اور معتدل فضا کے بغیر کسی کو کوئی دعوت نہیں دی جا سکتی۔
مسلمانوں پر لازم ہے کہ چھوٹی چھوٹی ناخوشگواریوں کو برداشت کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ یقینی طور پر خدا کے نزدیک مجرم ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مدعو اقوام سے لڑ پڑنا اور اس کو جہاد بتانا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ کسی بھی حال میں ان کو بری الذمہ قرار نہیں دیتا۔
یہ یقینی طور پر نفسانیت ہے، نہ کہ خدائی جہاد۔ کتاب 'اسباقِ تاریخ'، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 337۔